کالمز

قومیں چاپلوسی سے نہیں اصولوں سے بنتی ہیں

تحریر: خاور شہزاد

کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا اندازہ اس کے بلند و بانگ سیاسی نعروں حکمرانوں کی تقاریر یا ترقیاتی منصوبوں کی تشہیر سے نہیں بلکہ اس کے اداروں کی کارکردگی، قانون کی بالادستی انصاف کی فراہمی اور میرٹ کے احترام سے لگایا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہاں کون اقتدار میں ہے، بلکہ یہ ہے کہ اقتدار میں بیٹھے افراد بھی قانون کے تابع ہیں یا نہیں۔ جس ریاست میں قانون شخصیات کے مرتبے، سیاسی اثرورسوخ اور ذاتی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دینے لگے، وہاں اداروں کی مضبوطی محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں انتظامی نظام کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جس پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ کسی علاقے میں سرکاری افسران کی تعیناتی، ان کی کارکردگی اور تبادلوں کا معاملہ بظاہر ایک معمول کی انتظامی کارروائی ہے، لیکن جب اس عمل میں سیاسی پسند و ناپسند، ذاتی تعلقات اور بااثر حلقوں کی خواہشات کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگیں تو معاملہ محض تبادلے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے کی ساکھ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ کسی علاقے میں انتظامی افسر کی طویل تعیناتی کا غیر تحریری فارمولا شاید یہ ہے کہ وہ بااثر سیاسی شخصیات کے ہر جائز و ناجائز حکم پر بلاچوں و چراں اوکے سر کہنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اس کے برعکس اگر کوئی افسر کسی ایسے اقدام کے سامنے انکار کی جرأت کرے جو قانون، ضابطے یا میرٹ سے متصادم ہو، اور اپنے منصب کی ذمہ داریوں کو سیاسی خواہشات سے بالاتر رکھے تو اس کے لیے حالات مشکل ہو سکتے ہیں۔ یقیناً ہر تبادلے کو سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں اور نہ ہی ہر افسر کو اصول پسند سمجھ لینا چاہیے۔ سرکاری افسران کی کارکردگی، انتظامی ضرورت اور عوامی مفاد بھی تبادلوں کی جائز بنیادیں ہو سکتی ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام فیصلے شفاف معیار کے مطابق ہوتے ہیں؟ کیا کسی افسر کی مدتِ تعیناتی ختم کرنے یا اسے تبدیل کرنے کی وجوہات واضح کی جاتی ہیں؟ اور کیا اصولوں کے مطابق کام کرنے والے افسر کو محض کسی بااثر شخصیت کی ناراضی کی بنیاد پر مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا؟

انتظامی افسران کسی سیاسی شخصیت جماعت یا خاندان کے نمائندے نہیں بلکہ ریاست کے ملازم اور عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ ان کی بنیادی ذمہ داری آئین قانون اور قواعد کے مطابق فرائض کی انجام دہی ہے۔ ان کا منصب اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ کسی بھی شہری کے ساتھ سیاسی وابستگی سماجی حیثیت، مالی طاقت یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کریں۔ ایک افسر کے لیے سب سے بڑا امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس کے سامنے ایک طرف کسی بااثر شخصیت کی خواہش ہو اور دوسری طرف قانون کی پابندی۔ ایسے موقع پر اس کا فیصلہ ہی اس کے کردار پیشہ ورانہ دیانت اور ادارہ جاتی وابستگی کا تعین کرتا ہے۔ اگر وہ قانون کے بجائے اثرورسوخ کو ترجیح دیتا ہے تو شاید وقتی طور پر اپنی پوزیشن محفوظ کر لے، لیکن وہ اپنے منصب کی بنیادی ذمہ داری سے انحراف کرتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کسی افسر کی اصول پسندی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عوامی نمائندوں کی بات سننے سے انکار کر دے۔ عوامی نمائندوں کو اپنے حلقے کے مسائل متعلقہ اداروں تک پہنچانے، شہریوں کی شکایات کی پیروی کرنے اور حکومتی مشینری کو متحرک کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن عوامی خدمت اور ذاتی مفاد کے درمیان ایک واضح لکیر موجود ہے۔ جائز عوامی مطالبہ تسلیم کرنا ذمہ داری ہے، جبکہ قانون سے متصادم حکم ماننا کسی بھی صورت میں انتظامی فرض نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی حکومت کو انتظامی ضرورت کے تحت افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ یہ اختیار حکومتی نظام چلانے کے لیے ضروری بھی ہے، لیکن اس اختیار کی اصل افادیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب اسے شفافیت میرٹ اور عوامی مفاد کے تابع رکھا جائے۔ اگر ایک افسر کو اپنی مدتِ تعیناتی کے دوران ہر روز یہ خدشہ لاحق رہے کہ کسی بااثر شخصیت کی شکایت یا ناراضی اس کی تعیناتی تبدیل کروا سکتی ہے تو وہ آزادانہ فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے گا۔ اس کے نتیجے میں انتظامی خودمختاری کمزور اور غیر ضروری سفارشات کا راستہ وسیع ہو سکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک افسر کو یہ احساس ہونے لگے کہ اس کی ترقی، تعیناتی اور مستقبل کا انحصار اس کی کارکردگی کے بجائے سیاسی تعلقات پر ہے۔ پھر وہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی انتظامی پوزیشن محفوظ رکھنے کی کوشش میں مصروف ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں سرکاری دفاتر عوامی خدمت کے مراکز کے بجائے اثرورسوخ کے تابع نظام کی تصویر پیش کرنے لگتے ہیں۔ اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ متاثر وہ عام شہری ہوتا ہے جس کے پاس نہ سیاسی سفارش ہوتی ہے، نہ کسی بااثر شخصیت تک رسائی اور نہ ہی اپنے جائز کام کے لیے غیر ضروری دروازے کھٹکھٹانے کی سکت۔ ایک غریب شہری اپنی زمین کے مسئلے، کسی سرکاری واجب الادا حق، بنیادی سہولت، تجاوزات غیر قانونی تعمیرات یا کسی انتظامی شکایت کے حل کے لیے متعلقہ دفتر پہنچتا ہے۔ اس کی توقع ہوتی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہوگا اور اس کا مسئلہ میرٹ پر حل کیا جائے گا۔ لیکن اگر انتظامی نظام میں سفارش اور اثرورسوخ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو جائے تو عام شہری کے لیے انصاف کا حصول مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے سیاسی مداخلت کا معاملہ محض افسران کی تعیناتی یا تبادلے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ براہِ راست شہریوں کے بنیادی حقوق، مساوی سلوک اور انصاف تک رسائی سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اصولوں کی بات تو کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں اکثر انہی اصولوں سے انحراف کو کامیابی سمجھنے لگتے ہیں۔ خوشامد کرنے والا ذہین، تابعداری دکھانے والا وفادار اور اختلافِ رائے رکھنے والا ناپسندیدہ تصور کیا جانے لگتا ہے۔ یہ رویہ صرف سرکاری اداروں تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی، سیاسی اور تنظیمی زندگی کے مختلف شعبوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ جب کسی ادارے میں صلاحیت کے بجائے تعلقات، کارکردگی کے بجائے خوشامد اور میرٹ کے بجائے سفارش کو اہمیت ملنے لگے تو وہاں اہل افراد کی حوصلہ شکنی اور نااہلی کی حوصلہ افزائی کا راستہ کھل جاتا ہے۔ کسی بھی ادارے کے لیے اختلافِ رائے دشمنی نہیں ہوتا۔ ایک ذمہ دار افسر کا کسی غیر قانونی حکم سے اختلاف کرنا دراصل ادارے اور ریاست کے مفاد کا تحفظ ہے۔ ہر حکم کی بلا سوچے سمجھے تعمیل وفاداری نہیں بلکہ بعض حالات میں ذمہ داری سے فرار بھی ہو سکتی ہے۔ اداروں کو ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو درست فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، نہ کہ ایسے لوگ جو ہر صورت اپنے افسرِ بالا یا بااثر شخصیت کی خوشنودی کو ترجیح دیں۔ اگر سیاسی قیادت واقعی مضبوط ادارے، بہتر گورننس اور عوامی خدمت کا نظام قائم کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا ہوگا۔ سیاسی اثرورسوخ کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اداروں کی بہتری، شفافیت اور احتساب کے لیے بروئے کار لانا ہوگا۔

ایک اچھی سیاسی قیادت وہ نہیں جو اپنے مخالفین کو دبانے یا اپنے حامیوں کو نوازنے کے لیے انتظامی مشینری استعمال کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنے ہی حامیوں کے غیر قانونی مطالبات کو بھی مسترد کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ سیاسی قیادت کا اصل قد اس وقت بلند ہوتا ہے جب وہ اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر قانون اور انصاف کی حمایت کرے۔ اسی طرح انتظامی افسران کو بھی اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اگر کوئی افسر اختیارات کا ناجائز استعمال کرے، عوامی مسائل کو نظرانداز کرے، بدعنوانی میں ملوث ہو یا اپنی کارکردگی سے متعلق جواب دہی سے گریز کرے تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ اصول پسندی کا مطلب احتساب سے استثنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ احتساب بھی قانون، شواہد اور شفاف طریقہ کار کے مطابق ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں کے لیے واضح اور شفاف معیار مقرر کیا جائے۔ کارکردگی کی جانچ غیر جانب دارانہ بنیادوں پر ہو، تبادلوں کی وجوہات انتظامی ریکارڈ کا حصہ بنیں اور کسی بھی افسر کو سیاسی یا ذاتی دباؤ کے تحت غیر ضروری طور پر نشانہ بنانے کے تاثر کو ختم کیا جائے۔ ایسے افسران کو ادارہ جاتی تحفظ ملنا چاہیے جو قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، جبکہ بدعنوانی، نااہلی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب افسران کا احتساب بھی یقینی بنایا جائے۔ سیاسی قیادت، انتظامی مشینری اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ اسی وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب ہر فریق اپنی آئینی اور قانونی حدود کا احترام کرے۔ یاد رکھیے، ایک افسر کا تبادلہ حکومت کا انتظامی اختیار ہو سکتا ہے، لیکن اس اختیار کے استعمال کا معیار ہی حکومت کی ترجیحات، سنجیدگی اور ادارہ جاتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح ایک افسر کی کامیابی اس کی طویل تعیناتی میں نہیں بلکہ اس کے دورِ تعیناتی میں قانون کی پاسداری، عوامی خدمت اور انصاف کی فراہمی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم ایسے ادارے چاہتے ہیں جہاں اہل اور دیانت دار افراد کو کام کرنے کا موقع ملے، یا ایسے نظام کے عادی ہو چکے ہیں جہاں ہر شخص اپنی بقا کے لیے کسی نہ کسی بااثر شخصیت کی خوشنودی کا محتاج ہو؟ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ مضبوط ریاستیں شخصیات کے گرد نہیں بلکہ مضبوط اداروں کے سہارے قائم رہتی ہیں۔

حکمران بدلتے رہتے ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور جاتی ہیں، لیکن اداروں کی ساکھ، قانون کی بالادستی اور انصاف کے اصول مستقل رہنے چاہییں۔ آخر میں سوال صرف اتنا ہے کہ کیا ہم ایک ایسا انتظامی نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں جہاں افسران قانون کے مطابق فیصلے کرنے میں آزاد ہوں، یا ایسا ماحول برقرار رکھنا چاہتے ہیں جہاں ہر جائز و ناجائز حکم کے جواب میں صرف ایک ہی جملہ سنائی دے اوکے سر؟ یہ فیصلہ محض سیاست دانوں یا سرکاری افسران نے نہیں کرنا بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں نے بھی کرنا ہے۔ کیونکہ جب خوشامد کو قابلیت، تابعداری کو وفاداری اور سفارش کو میرٹ کا متبادل بنا دیا جائے تو زوال کسی ایک ادارے کا نہیں، پورے معاشرے کا مقدر بن جاتا ہے۔ قومیں چاپلوسی، خوشامد اور سیاسی تابعداری سے نہیں بنتیں۔ قومیں اصولوں، انصاف، دیانت داری، قانون کی بالادستی اور میرٹ کے احترام سے بنتی ہیں۔ قومیں ایسے نہیں بنتیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button