کفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدم

تحریر: اعجاز علی ساغر اسلام آباد
Twitter: @IjazAliSagharPK
ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے لیے مزید اقدامات کا فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے حکومت نے سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال غیر ضروری اخراجات میں کمی اور قومی خزانے پر مالی دباؤ کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کا مقصد حکومتی نظام میں مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دینا ہے۔
سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں تین ماہ کیلئے 50 فیصد کمی کی جائے گی تاہم مسلح افواج سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل گاڑیوں،ضروری خدمات اور ایف بی آر کی آپریشنل گاڑیوں کو اس فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ترقیاتی منصوبوں پر بھی یہ اقدام لاگو نہیں ہوگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچت کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی،عوامی تحفظ اور ترقیاتی سرگرمیوں کے تسلسل کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
مالی سال 2026-27 کے لیے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کا فیصلہ اور اس کٹوتی کا ماہانہ بنیادوں پر نفاذ حکومتی اخراجات کی نگرانی کے لیے اہم قدم ہے اس کے ساتھ سرکاری گاڑیوں کی تمام اقسام کی خریداری پر مکمل پابندی اور آئی ٹی خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیاء کی خریداری پر پابندی عائد کی گئی ہے ان اقدامات سے غیر ضروری خریداریوں کی حوصلہ شکنی اور دستیاب وسائل کے بہتر استعمال کی توقع کی جاسکتی ہے اس کے علاوہ
حکومت نے تین ماہ کیلئے بیرونِ ملک سرکاری دوروں اور سفری اخراجات پر بھی مکمل پابندی کا فیصلہ کیا ہے اسکالرشپس،تربیتی کورسز اور ادارہ جاتی معاہدوں کے تحت دوروں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ناگزیر بیرونِ ملک دوروں کی صورت میں وزراء اور سرکاری عہدیداران اکانومی کلاس میں سفر کریں گے یہ فیصلہ سرکاری اخراجات میں سادگی اور ذمہ داری کے اصول کو اجاگر کرتا ہے
سرکاری اجلاسوں کو ترجیحاً ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کرنے کی ہدایت بھی موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اجلاسوں کا انعقاد سفری اخراجات میں کمی کے ساتھ وقت کی بچت کا ذریعہ بن سکتا ہے اسی طرح غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی،سرکاری فنڈز سے سیمینارز،تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز کے انعقاد پر پابندی عائد کی گئی ہے ناگزیر تقریبات کیلئے سرکاری آڈیٹوریمز اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے
شادی کی تمام تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کی ہدایت بھی سادگی اور فضول خرچی میں کمی کے رجحان کو فروغ دینے کی کوشش ہے دوسری جانب کاروباری سرگرمیوں کیلئے مختلف اوقات مقرر کیے گئے ہیں دکانیں، مارکیٹیں،شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے، میرج ہالز،مارکیز اور تقریبات کے تجارتی مقامات رات 10 بجے، جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے۔
ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز کو مقررہ اوقات سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اسی طرح فارمیسیوں،کلینکس، ہسپتالوں،طبی لیبارٹریز،طبی سامان کی دکانوں،تندوروں، دودھ و ڈیری شاپس، فیول پمپس اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کو بھی استثنیٰ حاصل ہوگا۔
جم، کھیلوں کی سہولیات،آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو مستثنیٰ قرار دینا ان شعبوں کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھنے کی عکاسی کرتا ہے
کفایت شعاری اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستوں پر کیس ٹو کیس بنیاد پر غور کیا جائے گا اور سفارش منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کی جائے گی اس طریقہ کار کے ذریعے ناگزیر ضروریات کو مناسب جانچ پڑتال کے بعد پورا کرنے کی گنجائش برقرار رہے گی صوبائی اور علاقائی حکومتیں بھی اسی نوعیت کے اقدامات اپنانے پر غور کرسکتی ہیں،جس سے قومی سطح پر وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ مل سکتا ہے
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کفایت شعاری کے اقدامات کی کامیابی ان کے مؤثر اور شفاف نفاذ سے وابستہ ہے ضروری خدمات کے تسلسل،کاروباری طبقے کی مشکلات اور عوامی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہوگا اسی طرح اخراجات میں کمی کے نتائج کا باقاعدہ جائزہ لینے سے پالیسی کی افادیت بہتر طور پر سامنے آسکے گی۔
پاکستان کو معاشی استحکام کیلئے مالیاتی نظم و ضبط، وسائل کے تحفظ اور عوامی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
وفاقی حکومت کے حالیہ اقدامات اسی مقصد کی جانب ایک کوشش ہیں، مگر ان کی اصل کامیابی اعلانات میں نہیں بلکہ قابلِ پیمائش نتائج میں ظاہر ہوگی اگر ہر وزارت، ادارہ اور متعلقہ انتظامیہ اپنے اخراجات،ایندھن کے استعمال اور خریداری کے فیصلوں کا باقاعدہ حساب عوام کے سامنے پیش کرے تو کفایت شعاری محض وقتی پابندی نہیں رہے گی بلکہ حکمرانی کے مستقل معیار میں تبدیل ہوسکے گی۔
قومی خزانہ عوام کی امانت ہے اس لیے اس کے استعمال میں شفافیت،ترجیحات اور جواب دہی بنیادی اصول ہونے چاہییں کفایت شعاری کا مطلب صرف اخراجات کم کرنا نہیں بلکہ یہ طے کرنا بھی ہے کہ محدود وسائل کہاں خرچ کیے جائیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے اگر بچت کا بوجھ صرف عام شہری،ملازمین یا کاروباری طبقے پر ڈالا گیا اور سرکاری مراعات و غیر ضروری اخراجات برقرار رہے تو یہ پالیسی اعتماد پیدا نہیں کرسکے گی؛ لیکن اگر حکمران طبقہ خود مثال قائم کرے نگرانی کا مؤثر نظام بنائے اور بچنے والے وسائل تعلیم، صحت،روزگار اور بنیادی سہولیات پر صرف کرے تو یہی اقدام معاشی اصلاحات کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے
آخرکار کفایت شعاری کسی ایک نوٹیفیکیشن یا تین ماہ کی مہم کا نام نہیں بلکہ قومی ترجیحات کی ازسرنو ترتیب کا امتحان ہے۔ پاکستان کو اب ایسی حکمرانی درکار ہے جس میں ہر خرچ کا جواز ہر رعایت کا مقصد اور ہر بچت کا نتیجہ واضح ہو قومی وسائل کی حفاظت تبھی ممکن ہے جب حکومت سادگی کو اپنی پالیسی،شفافیت کو اپنا طریقۂ کار اور عوامی مفاد کو اپنی آخری ترجیح بنائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو مالی دباؤ کو قومی نظم و ضبط میں اور محدود وسائل کو پائیدار ترقی کے مواقع میں بدل سکتا ہے۔



