موسمیاتی تبدیلیوں کی رپورٹنگ: خطرات، دباؤ اور خاموش سچائیاں

موسمیاتی تبدیلیوں کی رپورٹنگ: خطرات، دباؤ اور خاموش سچائیاں
رپورٹ: فرحین العاص
پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ گرمی کی شدت میں اضافہ، غیر متوقع بارشیں، سیلاب اور بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اب روزمرہ حقیقت بن چکی ہے۔ ان حالات کو دنیا کے سامنے لانا صحافیوں کی ذمہ داری ہے، مگر یہ ذمہ داری اکثر سنگین خطرات سے جڑی ہوتی ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی مسائل پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی خود کس حد تک محفوظ ہیں؟
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی، جو ماحولیات اور وائلڈ لائف پر رپورٹنگ کرتے ہیں، کہتے ہیں:
“جب میں نے ایک انویسٹیگیٹو اسٹوری پر کام شروع کیا تو سب سے بڑی رکاوٹ معلومات تک رسائی تھی۔ متعلقہ ادارے معلومات فراہم کرنے سے گریزاں تھے۔”
وہ مزید بتاتے ہیں:
“مجھے اپنے ادارے کے اندر بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ سپروائزر اور ڈائریکٹر نیوز کے ذریعے کہا گیا کہ اس موضوع پر نہ لکھوں۔ میری سرزنش بھی کی گئی اور اسٹوری کا رخ بدلنے کی کوشش کی گئی۔”
اسی صحافی کے مطابق، ایک اور تحقیقاتی رپورٹ کے دوران صورتحال مزید سنگین ہو گئی:
“زمین پر قبضے سے متعلق اسٹوری پر کام کرتے ہوئے میری معلومات مافیا تک پہنچا دی گئیں۔ اس کے بعد مجھے ہراساں کیا گیا، ذہنی دباؤ ڈالا گیا اور ڈرایا دھمکایا گیا۔ یہاں تک کہ ادارے سے مجھے نوکری سے نکالنے کی بات بھی کی گئی۔”
پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے آلوچے (آلوبخارہ) کے باغ پر رپورٹنگ کے دوران پیش آنے والے حالات بیان کیے۔ اس باغ میں درختوں کو کیڑے لگ رہے تھے، جس سے فصل متاثر ہو رہی تھی۔
باغ سے تقریباً 50 سے 60 قدم کے فاصلے پر ایک اینٹوں کی بھٹی بھی موجود تھی، جو بظاہر زگ زیگ ٹیکنالوجی پر قائم نہیں تھی۔
صحافی کے مطابق:
“میری اسٹوری باغ پر تھی، لیکن جیسے ہی بھٹی کے مالک کو معلوم ہوا کہ میڈیا یہاں موجود ہے، وہ پریشان ہو گیا۔ اسے خدشہ تھا کہ کہیں اس کی بھٹی پر بھی رپورٹ نہ بن جائے۔”
“ہم نے اسے یقین دلایا کہ اسٹوری صرف باغ سے متعلق ہے، لیکن وہ مطمئن نہیں ہوا۔ اس نے خبردار کیا کہ نہ فٹیج بنائی جائے اور نہ ہی رپورٹ میں اس کا ذکر کیا جائے۔”
“اس نے دباؤ ڈالنے اور دھمکانے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ اس نے کہا کہ اسٹوری شائع ہونے کے بعد لنک شیئر کیا جائے۔ میں نے لنک شیئر بھی کیا، لیکن وہ پھر بھی مطمئن نہیں ہوا۔”
پشاور ہی کے ایک اور رپورٹر نے صنعتی آلودگی پر رپورٹنگ کے دوران پیش آنے والی مشکلات بیان کیں:
“میں ایک ایسے صنعتی علاقے پر کام کر رہا تھا جہاں فیکٹریوں سے مسلسل دھواں نکلتا ہے، لیکن مجھے مختلف ذرائع سے پیغامات ملنے لگے کہ اس موضوع پر آگے نہ بڑھوں۔”
انہوں نے کہا:
“بااثر حلقے نہیں چاہتے تھے کہ یہ مسئلہ سامنے آئے، اس لیے مجھے اپنی حفاظت کے پیش نظر اسٹوری روکنا پڑی۔”
اسی رپورٹر کے مطابق، کرش پلانٹس پر رپورٹنگ بھی کسی چیلنج سے کم نہیں:
“رہائشی آبادیوں میں قائم کرش پلانٹس ایک بڑا مسئلہ ہیں، لیکن ان پر رپورٹنگ کے دوران مافیا کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فون کالز، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔”
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے مطابق، 2025 میں دنیا بھر میں 111 صحافی قتل کیے گئے، جبکہ 1990 سے اب تک 3156 صحافی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس پیشے کے خطرناک ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
نیشنل پریس کلب کے صدر عبد الرازق سیال کے مطابق:
“حساس موضوعات، خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو زیادہ خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔ میڈیا اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رپورٹرز کو تحفظ فراہم کریں۔”
کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جنرل سیکرٹری لبنیٰ جرار کہتی ہیں:
“پاکستان میں صحافیوں کے لیے تربیت اور سیفٹی پروٹوکولز کی کمی ہے۔ بہت سے صحافی اپنے حقوق اور قانونی تحفظ سے بھی آگاہ نہیں ہوتے، جس سے ان کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔”
ماہرین کے مطابق، پاکستان میں صحافیوں کو خطرناک موضوعات پر رپورٹنگ کے لیے مناسب تربیت فراہم نہیں کی جاتی۔ کئی اداروں میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز موجود نہیں، اور اگر ہیں بھی تو عملے کو ان سے مکمل آگاہی نہیں ہوتی۔
موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ صحافت، ذمہ داری اور اظہارِ رائے کی آزادی کا امتحان بھی ہے۔ اس موضوع پر رپورٹنگ محض خبر دینا نہیں بلکہ خطرات کے درمیان سچ کو سامنے لانے کی ایک مسلسل جدوجہد ہے۔
تمام تر دباؤ اور خطرات کے باوجود، صحافی اس عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ وہ حقائق کو عوام تک پہنچاتے رہیں گے—چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔



