7 سالہ بچی کی بازیابی میں ناکامی، ورثاء کا قرآن پاک اٹھا کر ایس ایس پی آفس کے سامنے احتجاج

کندھ کوٹ (سید رشید احمد شاہ) کندہ کوٹ کے نواحی علاقے شبیر آباد تھانے کی حدود میں واقع گاؤں محمد رحیم سولنگی سے چھ روز قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والی 7 سالہ معصوم بچی زینت دختر امیر بخش سولنگی کی عدم بازیابی کے خلاف ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایس ایس پی آفس کے مرکزی گیٹ کے سامنے دھرنا دیا۔ احتجاج میں مردوں کے ساتھ بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی، جنہوں نے ہاتھوں میں قرآن پاک اٹھا کر انصاف کی اپیل کی اور بچی کی فوری بازیابی کے لیے نعرے بازی کی مظاہرین کا کہنا تھا کہ چھ دن گزر جانے کے باوجود پولیس مغوی بچی کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث اہل خانہ شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہیں۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مغوی بچی کے والد امیر بخش سولنگی اور دیگر اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس نہ صرف اس کیس میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی بلکہ انہیں مسلسل ہراساں بھی کیا جا رہا ہے اہل خانہ کے مطابق پولیس کی جانب سے بار بار گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جس دوران توڑ پھوڑ کے ساتھ گھریلو سامان بھی اٹھا کر لے جایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس انہیں اغوا میں ملوث افراد کے نام بتانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ ان کے پاس کسی بھی مشتبہ شخص کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں مظاہرین نے کہا کہ ان کی کمسن بیٹی کو اغوا ہوئے چھ دن بیت چکے ہیں، مگر تاحال نہ تو کوئی پیش رفت سامنے آئی ہے اور نہ ہی بچی کے حوالے سے کوئی ٹھوس معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس سے پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
احتجاج میں جسقم تحصیل نائب صدر مظہر علی سنجرانی اور جسقم کے کارکن غلام مرتضیٰ سندھی نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک معصوم بچی کا اغوا انتہائی افسوسناک اور تشویشناک واقعہ ہے، جس پر متعلقہ اداروں کی فوری کارروائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچی کی بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ذمہ داروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔
مظاہرین نے حکومت سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی لاڑکانہ اور علاقے کے منتخب نمائندے ایم این اے شبیر علی خان بجارانی سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور مغوی بچی زینت کو بحفاظت بازیاب کرا کے ورثاء میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے آخر میں مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر بچی کو جلد بازیاب نہ کرایا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔



