گلزارِ قائد میں زہر آلود پانی کی سپلائی،دو ماہ سے شہری اذیت میں مبتلا

واسا کی غفلت عروج پر،شکایات کے باوجود بدبودار پانی بند نہ ہو سکا
صاف پانی نایاب،گندے پانی نے گلزارِ قائد کے مکینوں کا جینا دوبھر کر دیا
راولپنڈی (عبدالرحمان سے) راولپنڈی کے علاقے گلزارِ قائد کی سٹریٹ نمبر 26 تا 29 میں گزشتہ دو ماہ سے جاری آلودہ پانی کی فراہمی نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جہاں گھروں میں صاف پانی کے بجائے گندا اور تعفن زدہ پانی سپلائی کیا جا رہا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق نلکوں سے آنے والے پانی میں نہ صرف واضح گندگی شامل ہے بلکہ اس میں سے اٹھنے والی شدید بدبو نے اس کا استعمال ناممکن بنا دیا ہے۔ میڈیا نمائندہ کی جانب سے موقع پر کیے گئے جائزے میں بھی پانی کی ناقص صورتحال کی تصدیق ہوئی، جہاں پانی کا رنگ تبدیل اور آلودگی نمایاں دکھائی دی، جو کسی بھی وقت صحت کے بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ متعدد بار واسا کے مقامی کمپلینٹ آفس گلزارِ قائد اور ہیڈ آفس واسا راولپنڈی میں شکایات درج کرا چکے ہیں، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے محض تسلیاں دی گئیں اور مسئلہ حل کرنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ اہل علاقہ نے انکشاف کیا کہ اس آلودہ پانی کے باعث بچے، بزرگ اور خواتین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واٹر سپلائی لائنوں میں سیوریج کا پانی شامل ہو رہا ہے۔ شہریوں نے واسا عملے کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے اسے کھلی غفلت اور نااہلی قرار دیا ہے۔ متاثرہ مکینوں نے کمشنر راولپنڈی اور ایم ڈی واسا سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ فوری حل نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری واسا انتظامیہ پر عائد ہو گی۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر واٹر سپلائی لائنوں کا معائنہ کروا کر اس سنگین مسئلے کا مستقل حل نکالیں، بصورت دیگر یہ معاملہ کسی بڑے سانحے میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔



