کندھ کوٹ غوثپور ڈکیتی کیس: چار ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

کندھ کوٹ غوثپور ڈکیتی کیس: چار ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان گرفتار نہ ہو سکے، متاثرہ ہندو خاندان کا احتجاج، اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
کندھ کوٹ (رپورٹ: علی نواز شیخ)
کندھ کوٹ غوثپور میں چار ماہ قبل ہندو تاجر بسنت لال کے گھر میں ہونے والی ڈکیتی کے مقدمے میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری اور لوٹے گئے لاکھوں روپے مالیت کے سامان کی عدم برآمدگی کے خلاف متاثرہ خاندان نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
احتجاجی مظاہرہ غوثپور میں کیا گیا جہاں متاثرہ خاندان کے افراد اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا کر ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چار ماہ قبل نامعلوم مسلح ڈاکو رات کے وقت ہندو تاجر بسنت لال کے گھر میں داخل ہوئے، گھر میں موجود خواتین کو یرغمال بنا کر سونا، زیورات اور تقریباً 20 لاکھ روپے نقد رقم لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔
متاثرین کے مطابق واقعے کے فوری بعد پولیس کو اطلاع دی گئی اور مقدمہ بھی درج کیا گیا، تاہم چار ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ تو واردات میں ملوث ملزمان گرفتار کیے جا سکے ہیں اور نہ ہی لوٹا گیا سامان برآمد ہو سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے بار بار یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں لیکن عملی طور پر کوئی نمایاں پیش رفت نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہے۔
احتجاج میں درویش کمار، بسنت لال، مائی وڈل، مائی راجی بائی، مائی شیلان، چاندنی بائی سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ واردات کے دوران گھر کی خواتین کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا گیا اور انہیں شدید خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس سنگین واقعے کے باوجود ملزمان قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ اگر بروقت اور مؤثر تحقیقات کی جاتیں تو ملزمان کو گرفتار کرکے لوٹا گیا سامان برآمد کیا جا سکتا تھا، لیکن تاحال کوئی خاطر خواہ کارروائی نہ ہونے کے باعث متاثرہ خاندان خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے افراد پہلے ہی مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور ایسے واقعات ان میں مزید خوف پیدا کر رہے ہیں۔
متاثرہ خاندان نے سندھ کے وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ سندھ، آئی جی سندھ پولیس، ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی کشمور سے مطالبہ کیا کہ ڈکیتی کے مقدمے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری، لوٹے گئے سونا زیورات اور نقد رقم کی برآمدگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ملزمان کی گرفتاری اور سامان کی برآمدگی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور اقلیتی برادری کے افراد کے ساتھ مل کر مزید سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا



