مرکزی نالے کی صفائی کے نام پر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی قومی خزانے کو کروڑوں کا چونا لگانے کا انکشاف

فوٹو سیشن اور سب اچھا کی جعلی رپورٹس کا ڈراپ سین نالہ گہرائی کے بجائے اوپر سے صاف، عوامی غیظ و غضب
حکام بالا خوابِ خرگوش میں مست ٹھیکیدار کی چاندی برسات میں شہر ڈوبنے کا خطرہ علاقہ مکینوں کا احتجاجی وارننگ
گوجرخان (قمر شہزاد) گوجرخان شہر ڈھوک شاہ زمان کے مرکزی نالے کی صفائی کے نام پر سرکاری فنڈز کی بندر بانٹ اور ٹھیکیدار کی مبینہ غفلت نے ذمہ داران کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ عوامی خزانے سے جاری ہونے والے خون پسینے کی کمائی کے فنڈز نالے کی صفائی پر لگنے کے بجائے مبینہ طور پر ٹھیکیدار کی جیبوں میں منتقل ہونے لگے۔ صفائی کے نام پر صرف آئی واش اور فوٹو سیشن تک محدود کارروائی نے شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا۔تفصیلات کے مطابق شہر کے مرکزی نالے کی گہرائی سے صفائی کرنے کے بجائے ٹھیکیدار نے صرف اوپری سطح سے کچرا ہٹا کر سب اچھا ہے کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی ہے۔ منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو نے ٹھیکیدار کے دعووں کی دھجیاں اڑا دیں، جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ نالے کی تہہ میں گندگی کے ڈھیر جوں کے توں موجود ہیں۔علاقہ مکینوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نالے کی مکمل اور گہرائی تک صفائی نہ کی گئی تو آنے والے برسات کے موسم میں نالہ بپھر جائے گا، جس سے پانی گھروں میں داخل ہو کر قیمتی سامان کی بربادی کا سبب بنے گا۔ شہریوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نالے کی صفائی نہیں بلکہ قومی خزانے کی صفائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی اور اے سی گوجرخان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس میگا کرپشن اور ناقص کارکردگی کا فوری نوٹس لیا جائے اور کسی فرض شناس افسر کی نگرانی میں ازسرِ نو صفائی کا کام شروع کرایا جائے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اگر لوٹ مار کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو شدید احتجاج کیا جائے گا۔



