نمائندگان کی خبریں

دعا چوک میں ہالی ووڈ طرز کا ڈرامہ،تیز رفتار ڈالے کی ٹکر،شہری زخمی،لاکھوں کا نقصان



ڈالہ باہر نہیں جا سکتا کی یقین دہانی،پھر صبح ہوتے ہی ملزم کیسے غائب ہوگیا؟

شہری نے خود ڈھونڈ نکالا ڈالہ،پولیس اب بھی مصروف،بحریہ ٹاؤن پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

راولپنڈی (عبدالرحمان سے) بحریہ ٹاؤن کے دعا چوک میں پیش آنے والے ایک سنسنی خیز حادثے اور بعد ازاں مبینہ پولیس غفلت نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ زخمی ہونے والے شہری اسد ظہیر کے مطابق وہ اپنی سوزوکی بولان کیری ڈبہ نمبر AHS-869 پر رات گئے راولپنڈی سے اپنے گھر کھڑکن جا رہے تھے کہ دعا چوک کے قریب ایک تیز رفتار سفید رنگ کا ریو ڈالہ نمبر 711-BRT موت بن کر ان کی جانب آیا۔ متاثرہ شہری کے مطابق ڈالہ ڈرائیور نے خطرناک انداز میں اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی، مگر سامنے سے گاڑی آنے پر اپنا ڈالہ اچانک ان کی گاڑی کی جانب موڑ دیا، جس کے نتیجے میں زور دار تصادم ہوا۔ حادثے میں اسد ظہیر زخمی ہو گئے جبکہ ان کی گاڑی بری طرح تباہ ہو گئی۔ شہری کا دعویٰ ہے کہ گاڑی کو تقریباً چھ سے سات لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اسد ظہیر کے مطابق حادثے کے بعد ڈالہ ڈرائیور محمد وقاص چوہدری مبینہ طور پر گاڑی سے اترا اور زخمی حالت میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں ایک ہنڈا سوک کار موقع پر پہنچی اور مبینہ طور پر ملزم کو اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوگئی۔ متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوری طور پر ون فائیو پر کال کی جس پر بحریہ ٹاؤن سکیورٹی اور ایک پولیس اہلکار موقع پر پہنچے۔ شہری کے مطابق انہیں یقین دلایا گیا کہ بحریہ ٹاؤن کی حدود میں موجود ڈالہ کسی صورت باہر نہیں جا سکتا اور جلد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تاہم حیرت انگیز طور پر چند گھنٹوں بعد صورتحال یکسر بدل گئی۔ شہری کا دعویٰ ہے کہ علی الصبح تقریباً پانچ بجے وہی ڈالہ بحریہ ٹاؤن کے ایک سیکٹر میں داخل ہو گیا اور کسی نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ درخواستیں، یقین دہانیاں اور وعدے اپنی جگہ مگر ملزم اور گاڑی بدستور قانون کی گرفت سے باہر رہے۔ ذرائع کے مطابق جب متاثرہ شہری نے خود تلاش شروع کی تو مبینہ طور پر مذکورہ ڈالہ بحریہ ٹاؤن کے ایک گھر کے اندر کھڑا ملا۔ اس بارے میں پولیس کو اطلاع دی گئی تو جواب ملا کہ عملہ دیگر تفتیشی امور میں مصروف ہے اور فی الحال کارروائی ممکن نہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر متاثرہ شخص خود ہی ملزم کی گاڑی کا سراغ لگانے پر مجبور ہو جائے تو یہ صورتحال متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھاتی ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے جائیں، متاثرہ شہری کو انصاف فراہم کیا جائے اور اگر کسی سطح پر غفلت برتی گئی ہے تو ذمہ داروں کا تعین بھی کیا جائے۔ واقعہ نے علاقے میں یہ سوال چھوڑ دیا ہے کہ اگر ون فائیو کال، سکیورٹی کی موجودگی اور پولیس کی یقین دہانیوں کے باوجود ایک مبینہ حادثہ کرنے والا ڈرائیور اور اس کی گاڑی نظروں سے اوجھل ہو سکتے ہیں تو عام شہری انصاف کے لیے کس دروازے پر دستک دیں؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button