سفارتکاری کا امتحان: کیا پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کا پل بن سکتا ہے؟

تحریر: رقیہ نعیم
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب مشرق وسطیٰ ایک نئے سفارتی اور عسکری بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں سلامتی کے خدشات، بحیرہ احمر میں جاری تنازعات اور عالمی تجارت کو درپیش خطرات نے اس اجلاس کو معمول کی سفارتی سرگرمی سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ انہی حالات میں وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سمیت مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں پاکستان کے سفارتی کردار کو ایک نئی آزمائش سے دوچار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
وزیراعظم اور ایرانی صدر کی ملاقات کا مرکزی نکتہ باہمی اعتماد، علاقائی استحکام اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت تھا۔ وزیراعظم نے حکومتی مؤقف کے مطابق ایرانی قیادت کو مکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں اعتماد میں لیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ سعودی عرب کی سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ سے متعلق ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر نے بھی پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت ایک نازک توازن کی متقاضی ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ اتحادی، اہم معاشی شراکت دار اور لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کا مرکز ہے، جبکہ ایران ایک ہمسایہ ملک ہونے کے باعث سرحدی سلامتی، تجارت اور علاقائی تعاون میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی سفارتی حکمت عملی بظاہر کسی ایک فریق کی صف بندی کے بجائے مفاہمت اور رابطے کے دروازے کھلے رکھنے پر مرکوز نظر آتی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال صرف علاقائی سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی طرح باب المندب کے راستے میں کشیدگی عالمی بحری تجارت کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔ یہی خدشات اقوام متحدہ میں مختلف ممالک کی جانب سے محفوظ اور آزاد بحری آمدورفت کی ضرورت پر زور دینے کا سبب بھی بنے ہیں۔
ان حالات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو حکومتی بیانات میں ایک ممکنہ مذاکراتی فریم ورک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس کی عملی تفصیلات مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم پاکستان اسے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں کے لیے ایک ممکنہ بنیاد قرار دے رہا ہے۔ چین کی جانب سے بھی مذاکراتی عمل کی حمایت اس بات کی علامت ہے کہ بڑی طاقتیں کم از کم بیانات کی سطح پر عسکری تصادم کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دینے کی بات کر رہی ہیں۔
جنرل اسمبلی کے موقع پر وزیراعظم کی بنگلہ دیش، لبنان، یورپی یونین کی قیادت اور امریکہ میں مقیم پاکستانی کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو صرف سیاسی تنازعات تک محدود رکھنے کے بجائے اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داری کے فروغ سے بھی جوڑنا چاہتا ہے۔ ایسے روابط پاکستان کے لیے اقتصادی سفارتکاری کے تناظر میں بھی اہم سمجھے جا سکتے ہیں۔
اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ خطے میں امن کی راہ ہموار کرنا آسان نہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان سخت بیانات، پابندیوں کا دباؤ، حوثیوں کی کارروائیاں اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کسی بھی مفاہمتی کوشش کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اقوام متحدہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض قراردادوں اور تقاریر تک محدود نہ رہے بلکہ اعتماد سازی، جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے عملی کردار ادا کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال ایک سفارتی امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر اسلام آباد اپنی متوازن خارجہ پالیسی کو مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھانے میں کامیاب رہتا ہے تو وہ خطے میں رابطے اور مفاہمت کے فروغ میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم اس کامیابی کا انحصار صرف پاکستان کی کوششوں پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ متعلقہ فریق مذاکرات کو تصادم پر ترجیح دینے کے لیے کس حد تک آمادہ ہوتے ہیں۔
آج دنیا کو ایسے بیانات سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو کشیدگی کم کریں، بحری راستوں کو محفوظ بنائیں اور مذاکرات کے امکانات کو تقویت دیں۔ اگر نیویارک میں ہونے والی سفارتی ملاقاتیں اسی سمت پیش رفت کا ذریعہ بنتی ہیں تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔



