کندھکوٹ کی تاریخی اقبال میموریل لائبریری زبوں حالی کا شکار

کندھکوٹ کی تاریخی اقبال میموریل لائبریری زبوں حالی کا شکار، بنیادی سہولیات ناپید، طلبہ شدید مشکلات میں مبتلا کتب کی کمی، پانی، بجلی اور واش روم جیسی سہولیات کا فقدان، تعلیمی حلقوں کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
کشمور (سید رشید احمد شاہ) شہر کی تاریخی اور علمی حیثیت کی حامل اقبال میموریل لائبریری، جو ماضی میں علم و ادب کا مرکز تصور کی جاتی تھی، اس وقت شدید زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے۔ لائبریری میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ اور علم دوست افراد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ذرائع کے مطابق لائبریری میں معیاری اور جدید کتب کی شدید کمی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ پینے کے صاف پانی کا مناسب انتظام بھی موجود نہیں، جو آنے والے طلبہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے مزید معلوم ہوا ہے کہ لائبریری میں واش روم جیسی بنیادی سہولت بھی یا تو ناکارہ ہے یا مکمل طور پر دستیاب نہیں، جبکہ بجلی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث سولر سسٹم اور بیٹری جیسی متبادل سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ ان حالات میں طلبہ کے لیے پر سکون اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنا ممکن نہیں رہا طلبہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تعطیلات کے بعد مطالعے کے شوق میں لائبریری کا رخ کرتے ہیں، تاہم سہولیات کی کمی انہیں مایوس کر دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو لائبریری کی افادیت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی شہر کے شہریوں، اساتذہ اور تعلیمی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تاریخی اور اہم ادبی ادارے کی بحالی کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لائبریری کی حالت بہتر بنانا نہ صرف طلبہ بلکہ پورے شہر کے علمی مستقبل کے لیے ناگزیر ہے دوسری جانب عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آخر اس اہم تعلیمی ادارے کی ابتر حالت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، اور متعلقہ ادارے اس جانب کب توجہ دیں گے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ علمی اثاثہ مکمل طور پر اپنی اہمیت کھو سکتا ہے۔



