گوجرخان میں گڈ گورننس کہاں؟ قانون بے اثر کیوں؟

شریف آباد کی پُرامن تقریب میں پیرا فورس کی تعیناتی کس قانون کے تحت؟ امن و امان کا مسلہ بھی نہیں تھا
وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری جواب دیں، گوجرخان میں گڈ گورننس کے دعوے آخر کہاں گئے؟
گوجرخان (قمر شہزاد) وزیراعلیٰ پنجاب ایک جانب گڈ گورننس، قانون کی بالادستی اور سرکاری وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے دعوے کرتی ہیں، تو دوسری جانب گوجرخان میں پیرا فورس کی ایک نجی نوعیت کے اجتماع میں مبینہ موجودگی نے حکومتی دعوؤں کی عملی حیثیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہری حلقوں کے مطابق گاؤں کا نام ایک شخصیت کے والد کے نام پر شریف آباد رکھنے کے سلسلے میں اہلِ علاقہ کا پُرامن اجتماع منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان بھی شریک ہوئیں، تاہم ان کے ہمراہ پیرا فورس کے عملے کی موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ شہریوں کا سوال ہے کہ اگر سرکاری گاڑی کے مبینہ غیر متعلقہ استعمال پر ڈپٹی کمشنر کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے تو گوجرخان میں پیرا فورس کی مبینہ غیر متعلقہ تعیناتی پر جواب دہی کون کرے گا؟ پیرا فورس کی بنیادی ذمہ داریوں میں پرائس کنٹرول، گراں فروشی اور تجاوزات کے خلاف کارروائی شامل ہے، مگر گوجرخان میں گراں فروشی اور تجاوزات کے مسائل بدستور موجود ہیں۔ شہریوں نے تیکھا سوال اٹھایا ہے کہ جہاں مہنگائی اور تجاوزات کے خلاف کارروائیاں مطلوب ہیں، وہاں پیرا فورس ایک پُرامن دیہی اجتماع میں کس قانونی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے پہنچی تھی؟ اگر وہاں امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں تھا تو فورس کی موجودگی کا جواز کیا تھا؟ اور اگر سکیورٹی کا کوئی خدشہ تھا تو پولیس کو طلب کرنے کے بجائے پیرا فورس کی تعیناتی کیوں ضروری سمجھی گئی؟ شہریوں کے مطابق نہ وہاں کسی ناخوشگوار صورت حال کی اطلاع تھی اور نہ ہی پیرا فورس کی موجودگی کا کوئی سرکاری مقصد سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعلیٰ پنجاب کی گڈ گورننس کا اطلاق گوجرخان میں نہیں ہوتا؟ کیا ریاست کے قوانین یہاں آ کر بے اثر ہو جاتے ہیں؟ ایک طرف سرکاری وسائل کے غیر ضروری استعمال پر کارروائی کے دعوے ہیں تو دوسری جانب پیرا فورس کی مبینہ تعیناتی، گاڑیوں کی آمدورفت اور پٹرول و ڈیزل کے اخراجات پر جواب دہی کون کرے گا؟ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پیرا فورس کی تعیناتی کا حکم، قانونی جواز، سرکاری ڈیوٹی کا مقصد اور قومی خزانے سے ہونے والے اخراجات کی تفصیلات سامنے لائی جائیں اور خلافِ ضابطہ اقدام ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گوجرخان کوئی قانون سے مستثنیٰ علاقہ نہیں؛ یہاں بھی گڈ گورننس اور قانون کی یکساں عملداری یقینی بنائی جائے۔
