نمائندگان کی خبریں

گرین بس سروس کے روٹس میں 30 ہزار آبادی کا قصبہ ڈنڈوت نظرانداز

گرین بس سروس کے مجوزہ روٹس میں 30 ہزار سے زائد آبادی کا حامل قصبہ ڈنڈوت نظرانداز، راجہ اسد رضا جنجوعہ ایڈووکیٹ کا اظہارِ تشویش

ڈنڈوت کو محض لنک روڈ کی بنیاد پر سفری سہولت سے محروم رکھنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، مجوزہ روٹس میں قصبے کو فوری شامل کیا جائے، اربابِ اختیار سے مطالبہ

چوآسیدن شاہ (خاور شہزاد) چوآسیدن شاہ سے چکوال، کلرکہار، پڈھ اور بشارت کے لیے گرین بس سروس کے مجوزہ روٹس اور اسٹاپس کی تفصیلات سامنے آنے پر راجہ اسد رضا جنجوعہ ایڈووکیٹ نے قصبہ ڈنڈوت کو منصوبے میں شامل نہ کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل قصبہ ڈنڈوت کو محض اس بنیاد پر نظرانداز کرنا کہ وہاں جانے کے لیے لنک روڈ موجود ہے، مقامی آبادی کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رتوچھہ اور پڈھ سمیت تحصیل چوآسیدن شاہ کے دیگر علاقوں کی نسبت ڈنڈوت کی آبادی کئی گنا زیادہ ہے، اس کے باوجود گرین بس سروس کے مجوزہ روٹس میں اس اہم اور گنجان آباد قصبے کو شامل نہ کرنا قابلِ توجہ معاملہ ہے۔ اگر گرین بسیں کلرکہار، بشارت اور دیگر گردونواح کے علاقوں تک جا سکتی ہیں تو ڈنڈوت کو بھی اس بنیادی سفری سہولت کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے، خصوصاً جبکہ قصبہ ڈنڈوت پڈھ سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

راجہ اسد رضا جنجوعہ ایڈووکیٹ نے اربابِ اختیار، متعلقہ حکام اور منصوبہ سازوں سے مطالبہ کیا کہ گرین بس سروس کے مجوزہ روٹس پر نظرثانی کرتے ہوئے قصبہ ڈنڈوت کو بھی باقاعدہ روٹ اور اسٹاپس کی فہرست میں شامل کیا جائے تاکہ 30 ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل اس اہم قصبے کے طلبہ، ملازمین، خواتین اور عام شہری بھی جدید سفری سہولت سے مستفید ہو سکیں

)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button