میگا پراجیکٹس کی راہ میں حائل سینکڑوں کھوکھوں کی مسماری کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع

لاہور سول کورٹ سے حکم امتناعی کی درخواست خارج، این ایچ اے نے تجاوزات فوری ہٹانے کے حتمی نوٹس آویزاں کر دیے
ترقیاتی منصوبے یا سینکڑوں خاندانوں کا معاشی قتل؟ متبادل جگہ کے تعین کے بغیر کھوکھا جات گرانے کے فیصلے سے بے چینی پھیل گئی
گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان شہر کی تاریخ کے اہم ترین ترقیاتی منصوبے دو انڈر پاسز کی تعمیر کے سلسلے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی اراضی پر قائم 300 سے زائد کھوکھوں کی مسماری کا حتمی مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ گوجرخان انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ کھوکھا یونین کو قانونی محاذ پر بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، العباس ٹریڈرز کی جانب سے لاہور سول کورٹ میں مسماری کے خلاف دائر کردہ حکم امتناعی کی درخواست خارج کر دی گئی ہے، جس کے بعد این ایچ اے حکام نے ایکشن لیتے ہوئے شہر بھر میں وارننگ نوٹسز آویزاں کر دیے ہیں۔نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت سے ریلیف ختم ہونے کے بعد اب تمام قابضین فی الفور این ایچ اے کے رائٹ آف وے میں قائم کھوکھے خود ہٹا لیں تاکہ میگا پراجیکٹ کا کام بلا تاخیر شروع کیا جا سکے۔ مقررہ وقت میں جگہ خالی نہ کرنے کی صورت میں گرینڈ آپریشن کے ذریعے تجاوزات مسمار کر دی جائیں گی اور مزاحمت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب اس فیصلے نے سینکڑوں دکانداروں اور ان سے وابستہ خاندانوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ متاثرہ دکانداروں کا موقف ہے کہ ان کھوکھوں سے ہزاروں افراد کا چولہا جل رہا ہے، یہ بے دخلی انہیں فاقہ کشی پر مجبور کر دے گی۔ اگرچہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کو کاروبار کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم تاحال کسی مخصوص مقام کا اعلان نہ ہونے کے باعث کھوکھا مالکان تذبذب کا شکار ہیں۔ شہر کے سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت اپنی جگہ، مگر انتظامیہ مسماری سے قبل متبادل جگہ کا پلان واضح کرے تاکہ غریب طبقے کا معاشی استحکام برقرار رہ سکے۔



