نمائندگان کی خبریں

کشمیر کالونی اندھیرے میں،شہری گرمی سے بے حال،سب ڈویژن قائد اعظم کالونی کے جواب نے آگ میں گھی ڈال دیا



رات ایک بجے بجلی بند،صبح پانچ بجے کے بعد بحال؛دفتر کے چکر اور مبینہ غیر سنجیدہ رویہ زیرِ بحث،شہریوں کی فریاد

میں نے آ کر اپ کا ٹرانسفارمر ٹھیک نہیں کرنا،مبینہ آڈیو سامنے آنے کے بعد شہریوں نے اعلیٰ حکام سے نوٹس کا مطالبہ کر دیا

راولپنڈی (عبدالرحمان سے) سب ڈویژن قائد اعظم کالونی کے علاقے کشمیر کالونی میں گزشتہ رات لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی طویل بندش شہریوں کے لیے سخت آزمائش بن گئی۔ تفصیلات کے مطابق رات تقریباً 12 سے 1 بجے کے دوران بجلی بند ہوئی جو صبح 5 بجے کے بعد بحال کی گئی، جبکہ شدید گرمی اور حبس کے باعث شہری پوری رات شدید مشکلات اور بے چینی کا شکار رہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق بجلی بند ہوتے ہی بڑی تعداد میں شہریوں نے سب ڈویژن قائد اعظم کالونی کے پی ٹی سی ایل نمبر پر متعدد بار رابطہ کر کے شکایات درج کروائیں جبکہ بعض شہری دفتر جا کر بھی عملے کو بجلی بند ہونے سے آگاہ کرتے رہے، مگر ان کے مطابق صورتحال جوں کی توں رہی اور کوئی واضح پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ شہریوں کے مطابق جب بجلی کی طویل بندش پر مقامی میڈیا نمائندے نے سب ڈویژن قائد اعظم کالونی سے رابطہ کیا تو ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے مبینہ طور پر کہا پتہ نہیں کیا ہوا ہے، دیکھتے رہیں بجلی آ جائے گی، نہ آئے تو بتانا، میرے پاس سسٹم آہستہ چل رہا ہے، 118 پر شکایات درج کروا دیں، وہ خود ہی دیکھ لیں گے، بعد ازاں ایس ڈی او سب ڈویژن قائد اعظم کالونی کے سرکاری نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مبینہ طور پر کہا دفتر میں شکایات درج کروائیں، میں نے تو آ کر آپ کا ٹرانسفارمر ٹھیک نہیں کرنا، وہاں شفٹ موجود ہے، لوڈ شیڈنگ بھی شروع ہو گئی ہے، اپ کے روڈ بھی خراب ہیں، اپ کی گلیاں بھی خراب ہیں، دفتر ہی رابطہ رکھنا ہے، وہی کریں گے، میں کچھ نہیں کر سکتا۔ شہریوں کے مطابق ایس ڈی او نے مزید مبینہ طور پر کہا کہ اس نمبر پر رابطہ نہ کیا جائے کیونکہ یہ نمبر صرف ایمرجنسی نوعیت کے معاملات، جیسے ٹرانسفارمر جلنے یا لائن فالٹ کے لیے ہے، اور معمولی شکایات پر اس نمبر پر کال نہ کی جائے۔ گفتگو کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ اگر عملہ نہیں آ رہا تو میں ان کو ڈنڈا سوٹا نہیں مار سکتا، میں کہوں بھی تو وہ کہیں گے فلاں کام کے بعد آئیں گے، پھر میں کیا کہوں کہ وہ کام چھوڑ دو۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف پوری رات شدید گرمی میں علاقے کے لوگ بجلی کی بحالی کے انتظار میں رہے جبکہ دوسری طرف شکایات پر ملنے والے مبینہ جواب نے عوامی پریشانی اور غصے میں مزید اضافہ کر دیا۔ شہریوں نے دعویٰ کیا ہے کہ متعلقہ گفتگو کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکام کو فراہم کی جا سکتی ہے۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، ائیسکو چیف اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، معاملے کی تحقیقات کرانے اور عوامی شکایات کے نظام کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں ایسے واقعات عوام کے لیے ناقابل برداشت بنتے جا رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button