عالمی حفاظتی ٹیکہ ہفتہ مہم کا آغاز اعلیٰ سطحی ایڈووکیسی سیمینار کا انعقاد

ماہرینِ صحت کا متفقہ مؤقف ویکسین مہلک بیماریوں سے بچاؤ کا مؤثر ترین ذریعہ، پنجاب میں کوریج 88.6 فیصد تک پہنچ گئی
سو فیصد ویکسینیشن ہدف کے حصول کے لیے حکومت، عالمی اداروں، میڈیا اور کمیونٹیز کے درمیان مربوط حکمتِ عملی پر زور
گوجرخان (قمرشہزاد) پنجاب میں عالمی حفاظتی ٹیکہ ہفتہ 2026 کا باقاعدہ آغاز ایک اعلیٰ سطحی ایڈووکیسی سیمینار سے کیا گیا، جس کا انعقاد جنگ فورم نے ای پی آئی پنجاب اور یونیسیف کے اشتراک سے کیا۔ اس موقع پر ماہرینِ طب، صحت عامہ کے نمائندگان، اور بین الاقوامی اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی اور ویکسینیشن کی اہمیت پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ تقریب کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر طارق اقبال بھٹہ نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز اور پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل شامل تھے۔ سیمینار کی میزبانی ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر نوید اختر ملک نے کی اور نظامت کے فرائض سینئر صحافی واصف ناگی نے انجام دیے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں اس امر پر زور دیا کہ ویکسین مہلک اور متعدی بیماریوں سے بچاؤ کا سب سے مؤثر اور محفوظ ذریعہ ہے، جس کے ذریعے دنیا بھر میں لاکھوں جانیں بچائی جا رہی ہیں۔ یونیسیف کے نمائندے نے بتایا کہ پنجاب میں حفاظتی ٹیکوں کی شرح 88.6 فیصد تک پہنچ چکی ہے، تاہم بعض اضلاع میں یہ شرح کم ہے، جسے بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔ ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر نوید اختر ملک نے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے تک بروقت ویکسین کی فراہمی یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔ دیگر مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد، ذرائع ابلاغ اور معاشرتی حلقے مل کر عوام میں مثبت شعور اجاگر کریں اور ویکسین سے متعلق غلط فہمیوں کا خاتمہ کریں۔ تقریب میں طلبہ، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ معاشرہ حفاظتی ٹیکوں کے فروغ اور قابلِ علاج بیماریوں کے خاتمے کے لیے متحد ہے۔



