شاعری

نظم

شگفتہ خان بھلوال


اے ہوا!
اس کے آ نگن سے گزرو تو
اس بے مہر سے کہنا
ہمیں اس سے کوئی بھی شکوہ نہیں
ہماری چاہتوں، بےقراریوں کو
شدتوں کو،آنسوؤں کو
ہنسی کو، خوشی کو
سب کو اس نے بھلا دیا ہے
اس بے نیاز کو بتا دینا
کہ آ نکھ کے سمندر میں
ویرانی ہی ویرانی ہے
بہار، خوشبو، گلاب موسم
اس کے بنا ہر شے انجانی ہے
ہواو! اس کے آ نگن سے گزرو تو
اس سنگ دل سے کہنا
ہر پل تیری یاد میں گذرتا ہے
صبح، شام دل میں دھڑکن کی جگہ
تمہارا ہی نام دھڑکتا ہے
اے ہواو!اسے یہ بھی بتا دینا کہ
کوئی اس کے بنا
آج بھی "ادھورا” ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button