کالمز

زندگی کی حقیقیت

از قلم : غنویٰ عمر

اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں عدم سے وجود بخش کر یہ زندگی عطا فرمائی اور ایک مقررہ وقت کے لیے اس فانی دنیا کے لیے ہمیں پیدا کیا۔
اس فانی زندگی کی کیا حقیقت ہے؟ کیا زندگی پیدا ہونے سے مر جانے کا نام ہے؟ کیا صرف پچاس, ساٹھ یا ستر اسی برس تک زندگی ہے؟ کیا اچھا کھانا, اچھا پینا, اعلی گھروں میں رہائش پذیر ہونا یہی زندگی کی حقیقت ہے؟
نہیں زندگی کی حقیقیت یہ نہیں بلکہ یہ تو اصل زندگی ہے ہی نہیں جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن مجید کے مختلف مقامات پر اس دنیاوی زندگی کی بے ثباتی کا ذکر کیا سورۃ الانعام میں ارشاد فرمایا:
و ما الحيوة الدنيا الا لعب ولهو ؕ وللدار الاخرة خير للذين يتقون افلا تعقلون ۞
ترجمہ:
اور دنیوی زندگی تو ایک کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں اور یقین جانو کہ جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت والا گھر کہیں زیادہ بہتر ہے۔ تو کیا اتنی سی بات تمہاری عقل میں نہیں آتی ؟
اس میں اللہ تبارک و تعالی نے واضح الفاظ میں فرما دیا کہ دنیاوی زندگی کی کوئی حقیقت نہیں۔
اسی طرح سورہ حدید میں ارشاد فرمایا:
اعلموا انما الحيوة الدنيا لعب ولهو وزينة وتفاخر بينكم وتكاثر فى الاموال والاولاد كمثل غيث اعجب الكفار نباته ثم يهيج فترٮه مصفرا ثم يكون حطما وفى الاخرة عذاب شديد ۙ ومغفرة من الله ورضوان وما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور ۞
ترجمہ:
جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زینت (وآرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (وستائش) اور مال واولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اُگتی اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑ جاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا:
كن في الدنيا كانك غريب، او عابر سبيل
یعنی دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو۔
اس کے علاوہ بھی بے شمار آیات اور احادیث ہیں جو دنیاوی زندگی کی حقیقیت کو واضح کرتی ہیں کہ اس فانی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ ہم نے ہمیشہ اس دنیا میں زندہ نہیں رہنا نہ ہی تو ہمارا یہ حسن صدا سلامت رہے گا , نہ ہی ان اعلی گاڑیوں میں ہمیشہ کے لیے پھرنا ہے اور نہ ہی ان اونچے محلات میں صدا رہنا ہے بلکہ ہمیں اس لیے پیدا کیا گیا تا کہ ہم اپنے مقصد زندگی کو پہچانیں اور وہ مقصد کیا ہے ؟ اس خالق حقیقی کو جس نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا اس کو پہچان کر اس کو راضی کرنا, اس کے احکامات پر عمل کرنا اور جن سے منع کیا ان سے اجتناب کرنا ہے اور اس زندگی کی رنگینیوں سے نکل کر اخروی اور ابدی زندگی کی تیاری کرنا ہے جہاں ہمیشہ رہنا ہے اور اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہونا ہے۔
لہذا اسی کے پیش نظر ہمیں اپنی اس زندگی کو ایک راہ گزر یا مسافر کی طرح گزارنی چاہیے اور آخرت کی زندگی کی تیاری کرنی چاہیے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں آخرت کی زندگی کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button