اہم خبریں

کشمیر چوک انڈر پاس: اسلام آباد کی ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل



پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اس وقت ترقی اور جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ایک اہم دور سے گزر رہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی متحرک قیادت اور خصوصی ہدایات، جبکہ چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سہیل اشرف کی مؤثر نگرانی میں وفاقی دارالحکومت میں ترقیاتی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر کام کی رفتار کو نمایاں طور پر تیز کیا گیا ہے۔ ان اہم منصوبوں میں کشمیر چوک انڈر پاس ایک نمایاں اور تاریخی منصوبہ ہے، جو جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی، ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے حکومتی عزم کا واضح مظہر ہے۔

*کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگِ بنیاد اسلام آباد کی ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کشمیر چوک کے اطراف میں ٹریفک کے ایک بڑے مسئلے کو حل کرتے ہوئے اسلام آباد اور راولپنڈی کے اہم علاقوں کے درمیان آمدورفت کو مزید آسان، تیز اور مؤثر بنانا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منصوبے کی سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترقیاتی کاموں کی تیز رفتار پیش رفت کو سراہا اور بالخصوص انڈر پاس کو صرف ایک ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کرنے کے ہدف کی تعریف کی۔*

کشمیر چوک انڈر پاس محض ایک سڑک یا ٹریفک کا منصوبہ نہیں بلکہ اسلام آباد میں شہری ترقی کے ایک نئے طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے، جس کی بنیاد رفتار، کارکردگی، عوامی سہولت اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر ہے۔ اس منصوبے کی تخمینہ لاگت تقریباً 1.4 ارب روپے ہے، جبکہ سی ڈی اے نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے فاسٹ ٹریک طریقۂ کار اختیار کیا ہے۔

کشمیر چوک انڈر پاس اپنی جغرافیائی اور ٹریفک اہمیت کے باعث نہایت اہم منصوبہ ہے، کیونکہ کشمیر چوک وفاقی دارالحکومت کے اہم علاقوں کو باہم ملانے والے مصروف روٹ پر واقع ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری اور شہریوں کے سفری وقت میں کمی متوقع ہے۔ سرینا کی جانب سے راولپنڈی جانے والی ٹریفک کو انڈر پاس کے ذریعے بلا رکاوٹ آمدورفت کی سہولت میسر آئے گی، جبکہ مری کی جانب جانے والی ٹریفک کو چوک کے اوپری حصے سے گزرنے کی سہولت حاصل ہوگی۔ اس سے نہ صرف ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا بلکہ رابطوں میں بہتری، وقت اور ایندھن کی بچت بھی ہوگی اور ہزاروں شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر سہولت حاصل ہوگی۔

*ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کا نیا دور*

کشمیر چوک انڈر پاس اسلام آباد کے لیے سی ڈی اے کے وسیع تر ترقیاتی وژن کا حصہ ہے، جسے وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی ہدایات کی روشنی میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد صرف نئے منصوبے شروع کرنا نہیں بلکہ طویل عرصے سے زیرِ التوا منصوبوں کو بھی کم سے کم وقت میں مکمل کرنا ہے۔ اس حکمت عملی کے نتائج اب عملی طور پر نظر آ رہے ہیں۔ سال 2025 کے دوران سی ڈی اے نے تقریباً 15 ارب روپے کی لاگت سے 18 ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، جن میں سڑکوں اور ٹریفک انفراسٹرکچر کے متعدد اہم منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں ایف-8 انٹرچینج، سرینا انٹرچینج، مری روڈ انڈر پاس، ٹی چوک فلائی اوور، شاہین چوک انڈر پاس، پارک روڈ اور بزنس فسیلیٹیشن سینٹر شامل ہیں۔

ان منصوبوں نے اسلام آباد کے اہم ٹریفک کوریڈورز کو نئی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اہم چوراہوں پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی، شہر کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطوں میں بہتری اور شہریوں، سیاحوں اور روزانہ سفر کرنے والے افراد کے لیے سہولیات میں اضافہ اس ترقیاتی عمل کے نمایاں ثمرات ہیں۔

شاہین چوک انڈر پاس کی تکمیل بھی سی ڈی اے کے تیز رفتار منصوبہ جاتی عمل کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اگرچہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ابتدائی طور پر زیادہ وقت مقرر کیا گیا تھا، تاہم سی ڈی اے نے اسے مقررہ مدت سے کہیں پہلے مکمل کیا۔ یہی عزم، رفتار اور احساسِ ذمہ داری اب کشمیر چوک انڈر پاس کی تکمیل میں بھی نظر آ رہا ہے۔

*وژن اور حکمت عملی کے ساتھ ترقی*

وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی ہدایات کے تحت اسلام آباد کی ترقیاتی حکمت عملی صرف سڑکوں اور انڈر پاسز تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد وفاقی دارالحکومت کو ایک جدید، مؤثر، سرسبز اور عالمی معیار کے شہر میں تبدیل کرنا ہے۔

سی ڈی اے کی جانب سے بڑے روڈ نیٹ ورک، بہتر رابطہ کاری، شہر کی خوبصورتی، لینڈ اسکیپنگ، تفریحی سہولیات اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں پر بھی بیک وقت کام جاری ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد کے سبز تشخص کو مزید بہتر بنانے، پارکس کی تزئین و آرائش اور شہریوں کے لیے مزید تفریحی سہولیات کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔

مارگلہ ایونیو کی توسیع، اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ کی بہتری، اتاترک ایونیو کی اپ گریڈیشن اور دیگر اہم انفراسٹرکچر منصوبے اس امر کا ثبوت ہیں کہ اسلام آباد کے لیے ترقیاتی پروگرام کو ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ سی ڈی اے کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔

**منصوبوں سے عملی نتائج تک کامیابی کا سفر **

موجودہ ترقیاتی عمل کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ منصوبوں کو محض اعلانات یا کاغذی منصوبہ بندی تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ ان کے عملی نتائج شہریوں تک پہنچانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اسلام آباد کی آبادی میں اضافے، رہائشی و تجارتی علاقوں کی توسیع اور گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث شہر کے روڈ انفراسٹرکچر پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ وقت کے ساتھ شہری ضروریات میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق انفراسٹرکچر کو بھی اپ گریڈ کرنے کی ضرورت تھی۔ موجودہ ترقیاتی پروگرام اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش ہے، جس کے تحت نئی سڑکوں، انڈر پاسز، انٹرچینجز، فلائی اوورز اور جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم سمیت متعدد منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔

کشمیر چوک انڈر پاس بھی اسی وسیع تر ترقیاتی تبدیلی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کی اہمیت صرف ایک تعمیراتی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اس منصوبے سے بہتر سفری سہولت، رابطوں میں بہتری، ٹریفک کی روانی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی بھی توقع ہے۔

*اسلام آباد کے لیے سی ڈی اے کا عزم*

سی ڈی اے کی جانب سے حاصل ہونے والی ترقیاتی پیش رفت مضبوط ادارہ جاتی رابطہ کاری، واضح سمت اور مؤثر نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ وزارتِ داخلہ، سی ڈی اے، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، انجینئرز، کنٹریکٹرز اور دیگر متعلقہ محکمے ترقیاتی منصوبوں کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر مکمل کرنے کے لیے باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔

*وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی ہدایات نے ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے، معیار برقرار رکھنے اور ان کے ثمرات براہِ راست شہریوں تک پہنچانے پر واضح توجہ مرکوز کی ہے۔ متعدد بڑے منصوبوں کی تکمیل اور نئے منصوبوں کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد ایک مسلسل اور تیز رفتار ترقیاتی عمل سے گزر رہا ہے۔*

کشمیر چوک انڈر پاس اس نئے ترقیاتی سفر کی ایک علامت بن کر سامنے آئے گا۔ یہ ایک ایسے اسلام آباد کی تصویر پیش کرتا ہے جو آگے بڑھ رہا ہے، جہاں انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جا رہا ہے، ٹریفک کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں، عوامی مقامات کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور ترقیاتی منصوبوں کو غیر معمولی رفتار سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے۔

*کشمیر چوک انڈرپاس مستقبل کے لیے ایک تاریخی منصوبہ*

کشمیر چوک انڈر پاس محض آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے والا منصوبہ نہیں بلکہ اسلام آباد کے وسیع تر ترقیاتی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسا وفاقی دارالحکومت جو جدید، مربوط، قابلِ رسائی، خوبصورت اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

*چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی مؤثر اور متحرک نگرانی میں، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کی ہدایات کے مطابق سی ڈی اے کی جانب سے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ آنے والے دنوں میں اسلام آباد کے شہریوں کو آمدورفت، انفراسٹرکچر، عوامی سہولیات اور مجموعی شہری ماحول میں مزید بہتری دیکھنے کو ملے گی۔*

کشمیر چوک انڈر پاس پر تیز رفتار پیش رفت اور دیگر متعدد بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ایک واضح پیغام ہے کہ اسلام آباد کی ترقی اب سست روی کا شکار نہیں بلکہ رفتار، مقصد اور مستقبل کے واضح وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

*کشمیر چوک انڈر پاس اس ترقیاتی دور کے ان اہم منصوبوں میں شمار ہوگا جو سی ڈی اے کے عوامی خدمت، جدید انفراسٹرکچر اور اسلام آباد کو حقیقی معنوں میں ایک عالمی معیار کے وفاقی دارالحکومت میں تبدیل کرنے کے عزم کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔*

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button