خواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی سالانہ کانفرنس

دنیا بھر سے حقوقِ نسواں کی آوازیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئیں
شراکت فاؤنڈیشن نے فوندازیونے پینجیا (Fondazione Pangea) اور ویمن وِد آؤٹ وائلنس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن (WWVIF) کے اشتراک سے خواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی سالانہ کانفرنس (CSWA) کا انعقاد 23 سے 25 اکتوبر 2026 تک لوک ورثہ، اسلام آباد میں کیا۔ اس کانفرنس میں 20 سے زائد تنظیموں کے نمائندوں، سول سوسائٹی کے اراکین، سماجی کارکنوں، محققین اور مختلف شعبوں سے وابستہ پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے مشترکہ آواز اور اجتماعی وکالت کو مضبوط بنانا تھا۔
اس کانفرنس کا مقصد 1995 کے بیجنگ اعلامیے اور پلیٹ فارم فار ایکشن کے وژن کو آگے بڑھانا اور اس کے وعدوں کو آج خواتین اور لڑکیوں کو درپیش مسائل، چیلنجز اور ترجیحات سے جوڑنا تھا۔ اس پلیٹ فارم نے مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والی حقوقِ نسواں کی حامی آوازوں کو اپنے خیالات کے تبادلے، اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے اور خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے اہم ترجیحات کی نشاندہی کرنے کا موقع فراہم کیا، خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے تناظر میں۔
کانفرنس میں 20 سے زائد تنظیموں نے شرکت کی، جن میں ویمن وِد آؤٹ وائلنس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن (WWVIF)، وومنز یو این رپورٹ نیٹ ورک (WUNRN)، سمپارک، ویمن فار پیس اِن دی ورلڈ، گلوبل الائنس فار امپرووڈ نیوٹریشن (GAIN)، روزن، بلوچستان سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوز اور ایکشن فار گرلز ایمپاورمنٹ سمیت دیگر تنظیمیں شامل تھیں۔
تین روزہ کانفرنس کے دوران شرکاء نے بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن کی اہمیت اور اس پر عمل درآمد کی موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے مکالمے اور معلومات کے تبادلے میں حصہ لیا۔ گفتگو میں صنفی عدم مساوات کے تسلسل، خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت، خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کی روک تھام، اور خواتین کے حقوق و صنفی مساوات کے لیے وکالت کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔
کانفرنس کا ایک اہم مقصد 1995 کے بیجنگ اعلامیے کے وژن کو آج کے حالات اور ضروریات کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے ایک مؤثر وکالتی ایجنڈے کو فروغ دینا تھا۔ شرکاء کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ ابھرتے ہوئے چیلنجز کا جائزہ لیں، موجودہ وعدوں پر عمل درآمد میں موجود خامیوں کی نشاندہی کریں اور ایسے عملی اقدامات پر غور کریں جن کے ذریعے خواتین کے حقوق کو پالیسیوں، اداروں اور ترقیاتی عمل میں زیادہ مؤثر ترجیح بنایا جا سکے۔
مختلف پس منظر اور حالات سے تعلق رکھنے والی تنظیموں اور حقوقِ نسواں کی حامی آوازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے سے تجربات کے تبادلے، روابط کو مضبوط بنانے اور مشترکہ اقدامات کے امکانات تلاش کرنے کے مواقع پیدا ہوئے۔ مباحثوں میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے متنوع تجربات کو تسلیم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کی آواز، ترجیحات اور عملی زندگی کے تجربات وکالت اور فیصلہ سازی میں مؤثر طور پر شامل ہوں۔
کانفرنس میں گلوبل ساؤتھ کے نقطۂ نظر اور ترجیحات کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ اس سلسلے میں مقامی ضروریات کے مطابق حکمتِ عملی اپنانے، سب کی شمولیت کو یقینی بنانے اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ کانفرنس نے اداروں کو جواب دہ بنانے، امتیازی سماجی رویوں کو چیلنج کرنے اور بامعنی و دیرپا تبدیلی کے فروغ میں حقوقِ نسواں کی تحریکوں اور سول سوسائٹی کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔
خواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی سالانہ کانفرنس کے ذریعے شراکت فاؤنڈیشن اور اس کے شراکت دار اداروں نے حقوقِ نسواں کی تحریکوں کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانے، اجتماعی وکالت کو فروغ دینے اور خواتین و لڑکیوں کی ضروریات، مسائل اور خواہشات کے مطابق ایک جامع ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ کانفرنس بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن کے حوالے سے نئے مکالمے، باہمی تعاون اور اجتماعی عزم کو فروغ دینے کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ اس نے اس امر کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا کہ مساوات، ترقی اور امن کے وژن کو آج کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک زیادہ منصفانہ، مساوی اور جامع معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔



