اہم خبریں

پی آئی او ریئسہ عادل کا خواتین صحافیوں کے مسائل کے حل اور تربیتی پروگراموں کا اعلان


پرنسپل انفارمیشن آفیسر (پی آئی او) ریئسہ عادل نے کہا ہےکہ صحافیوں کیلئےپاکستان انفارمیشن سروس اکیڈمی کے تعاون سے مختلف تربیتی کورسز، خصوصاً فری لانسنگ، ڈیجیٹل میڈیا، کلائمٹ رپورٹنگ اور جدید صحافتی مہارتوں پر پروگرام شروع کئے جائیں گے تاکہ صحافی بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے سے ہم آہنگ ہو سکیں، میڈیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہا ہے، اس لیے صحافیوں خصوصاً خواتین کی صلاحیتوں میں اضافے (Capacity Building) پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے،خواتین صحافیوں کے مسائل کو متعلقہ حکام تک مؤثر انداز میں پہنچائیں گی اور ہر ممکن تعاون فراہم کریں گی،ریئسہ عادل نے نیشنل پریس کلب میں خواتین صحافیوں کے لیے علیحدہ لیڈیز روم، آرام گاہ اور بچوں کے لیے ڈے کیئر جیسی سہولیات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور یقین دلایا کہ وہ ان تجاویز کو متعلقہ فورمز پر اٹھائیں گی،صحافی خواتین کے لئے ایکریڈیشن کارڈ۔ صحت کارڈ ، ڈیجیٹل جرنلسٹ کے لئے ایکریڈیشن کارڈ اور صحافی خواتین کے لئے پریس نفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں حل طلب مسائل کے لئے ویمن جرنلسٹ ہیلپ ڈیسک بنانے کی تجویز پر رئسہ عادل نے یقین دہانی بھی کرائی، انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں خواتین صحافیوں کے ساتھ خصوصی نشست میں شرکت کے موقع پرگفتگو کرتے ہوئے کیا، این پی سی آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا  گیا۔ اس موقع پر نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، نائب صدربشیر چوہدری، سینئر جوائنٹ سیکرٹری شیراز گردیزی، جوائنٹ سیکرٹری سید عون شیرازی، گورننگ باڈی کے ارکان اور بڑی تعداد میں خواتین صحافی موجود تھیں،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریئسہ عادل نے کہا کہ پی آئی او کی ذمہ داری سنبھالنا ان کے لیے اعزاز کیساتھ ساتھ بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے،ریئسہ عادل نے نیشنل پریس کلب میں خواتین صحافیوں کے لیے علیحدہ لیڈیز روم، آرام گاہ اور بچوں کے لیے ڈے کیئر جیسی سہولیات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور یقین دلایا کہ وہ ان تجاویز کو متعلقہ فورمز پر اٹھائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور میڈیا ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں، اس لیے دونوں کے درمیان اعتماد اور رابطے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام تک درست اور ذمہ دارانہ معلومات پہنچائی جا سکیں،اس موقع پر صدر این پی سی عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، سیکرٹری فنانس عابد عباسی نے پی آئی او کی پریس کلب آمد پر شکریہ ادا کیا اور انہیں پریس کلب کے خواتین اور ممبران کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین صحافی میڈیا میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم انہیں ملازمتوں کے عدم تحفظ، کم تنخواہوں، لے آف، تربیتی مواقع کی کمی اور کام کی جگہ پر سہولیات کے فقدان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت خواتین صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے ، تقریب سے سابق سیکرٹری این پی سی نیئر علی، جوائنٹ سیکرٹری سحرش قریشی، جوائنٹ سیکرٹری شکیلہ جلیل، سینئر صحافیوں فوزیہ کلثوم رانا و دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تجاویز پیش کیں، جبکہ بعد ازاں خواتین صحافیوں اور پی آئی او کے درمیان سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں خواتین صحافیوں نے صحافتی شعبے میں خواتین کو درپیش مختلف مسائل جن میں ایکریڈیشن کارڈز کے حصول میں مشکلات سمیت دیگر مسائل شامل تھے کے ممکنہ حل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔تقریب کے اختتام پر نیشنل پریس کلب کی جانب سے ریئسہ عادل کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button