نمائندگان کی خبریں

مون سون سے قبل نالوں کی ابتر صورتحال بڑے سانحے اور آبادی کے شدید نقصان کا خطرہ


96 لاکھ کا ٹھیکہ صرف فوٹو سیشن نکلا سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر نے بلدیہ اور ٹھیکیدار کے مبینہ گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑ دیا
شہریوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر بلدیاتی فنڈز کا فوری آڈٹ اور ہائی پروفائل انکوائری عمل میں لائی جائے

گوجرخان (قمرشہزاد) بلدیہ گوجرخان کی نااہلی، غفلت اور کرپشن کی مبینہ داستانیں ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ مون سون کا سیزن سر پر ہے، مگر شہر کے مین نالے کی تباہ کن حالت زار کسی بھی وقت بڑے جانی و مالی سانحے کا موجب اور مقامی آبادی کے لیے ہولناک نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ سابق سی او بلدیہ کے دور میں چند ماہ قبل اس مین نالے کی صفائی کے نام پر 96 لاکھ روپے کا جو بھاری ٹھیکہ دیا گیا تھا، وہ زمینی حقائق کے بجائے صرف مبینہ کاغذی کارروائیوں اور فوٹو سیشن تک محدود نکلا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں کی جانب سے جاری کردہ نالے کی تازہ ترین ہولناک تصاویر نے صفائی کے تمام سرکاری دعووں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ دنوں ہونے والی بارش نے بلدیہ کے بلند و بانگ دعووں کا جنازہ نکال دیا تھا، جب سٹی نالوں کے لیے مختص 60 لاکھ روپے کے فنڈز کے باوجود سروس روڈز، تجارتی مراکز اور گلی محلوں کے نالے ابل پڑے تھے جس سے بازار گلیاں محلے ندی کے مناظر پیش کر رہے تھے۔ وائرل تصاویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مین نالا کچرے اور گاد سے اٹا پڑا ہے، جو بلدیہ حکام اور ٹھیکیدار کی مبینہ ملی بھگت اور عوامی ٹیکس کے پیسوں پر ڈاکے کی واضح تصویر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مون سون کی ہولناک بارشوں میں یہ نالا پورے شہر کو ڈبو سکتا ہے اور کسی بڑے حادثے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری بلدیہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ شہریوں اور تاجر برادری نے اس شدید ترین سنگین صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور اینٹی کرپشن حکام سے فوری ہائی پروفائل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا دوٹوک مؤقف ہے کہ بلدیہ گوجرخان کے تمام جاری فنڈز اور ٹھیکوں کا فوری فارنزک آڈٹ کروایا جائے، سرکاری خزانے کو مبینہ طور پر کھو کھاتے میں ڈالنے والے لٹیروں کا کڑا احتساب کیا جائے اور عوام کے پیسے کا ضیاع کسی صورت برداشت نہ کیا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button