ٹی آئی پی،بغیر بورڈ منظوری افسران کا ڈبل تنخواہیں اور مراعات لینے کا انکشاف

کرپشن اور خردبرد کی نشاندہی کرنیوالا چیف فنانس افسر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا،حکومت اور اداروں کیلئے سوالیہ نشان ؟
راولپنڈی (عبدالرحمان سے) مبینہ کرپٹ مافیا نے ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان میں پنجے گاڑھ لئے۔ بورڈ منظوری کے بغیر افسران کا ڈبل تنخواہیں اور مراعات لینے کا انکشاف ہوا ہے۔ وقار حسن اور ناصر رزاق ایک ایک لاکھ روپے جبکہ مدثر ظہور بھٹی 85 ہزار روپے ماہانہ وصول کرتے رہے۔ کرپشن اور خرد برد کی نشاندہی کرنے والا چیف فنانس افسر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ متعلقہ حکومتی اور عدلیہ حکام کو فوری نوٹس لینا چاہئے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان کے متعدد افسران بورڈ آف ڈائریکٹر سے منظوری لئے بغیر اپنی تنخواہوں کے علاوہ پروجیکٹ کے نام پر ڈبل تنخواہیں وصول کر رہے ہیں جن میں ادارے کے سابق چیف فائنانس افسر ناصر رزاق، چیف انٹرنل آڈیٹر وقار حسن اور ڈپٹی منیجر مدثر ظہور بھٹی سمیت کئی افسران کے نام سر فہرست ہیں۔ یاد رہے کہ مذکورہ کنٹریکٹ افسران کو ٹی آئی پی کی 2021ء میں نیشنل ریڈیو ٹیلی کمونی کیشن کمپنی (این آر ٹی سی) کو حوالگی کے وقت تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور ٹی آئی پی کے متعدد افسران کو سائیڈ لائن کر کے مذکورہ جونیئر ترین اور کنٹریکٹ پر بھرتی کئے گئے ان افسران کو اہم نوعیت کے مالیاتی عہدوں پر بٹھا دیا گیا تھا جن کی سنیارٹی اور اہلیت پر وقتاً فوقتاً سوالات اور اعتراضات اٹھتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ بدعنوانیوں، خرد برد اور مالی بے ضابطگیوں کے سدباب کے پیش نظر نومبر 2025 میں این آر ٹی سی انتظامیہ نے چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ محمد علی کو چیف فنانس افسر ٹی آئی پی تعینات کیا تھا جنہوں نے انتہائی کم وقت میں پنشن فنڈ، الیکٹرک بسز اور دیگر شعبوں میں مذکورہ افسران کی مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے علاوہ ڈبل تنخواہیں وصول کرنے کے معاملے پر جنرل مینجر ہیومن ریسورس اینڈ ایڈمنسٹریشن سے لیٹر مورخہ 10 فروری 2026 کے ذریعے رائے طلب کی تھی اور بتایا تھا کہ تینوں افسران اپنی تنخواہوں کے علاوہ پراجیکٹ الاؤنس کی مد میں CIA وقار حسن اور CFO ناصر رزاق ایک ایک لاکھ روپے جبکہ ڈپٹی مینجر مدثر ظہور بھٹی 85 ہزار ریگولر بنیادوں پر ہر ماہ بغیر بورڈ منظوری کے وصول کر رہے ہیں. حالانکہ پراجیکٹ الاؤنس کی مد میں مستقل افسر بھی اپنے سکیل کا محض 20 فیصد یا زیادہ سے زیادہ بیس ہزار روپے کا حقدار ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ ٹی ائی پی کے لیگل ایڈوائزر نے بھی چیف فنانس افسر محمد علی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے غیر قانونی اور بورڈ منظوری کے بغیر ہڑپ کردہ تمام رقم کی مذکورہ افسران سے ریکوری اور معاملے کی انکوائری کی سفارش کی تھی تاہم کرپٹ عناصر کی سرکوبی کی بجائے انکے دباؤ پر مذکورہ معاملے کی نشاندہی کرنے والے افسر کے دفاتر کو سیل کرتے ہوئے ملازمت سے ہی بیک جنبش قلم فارغ کر دیا گیا جس پر عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔



