اہم خبریں

چوآ سیدن شاہ: کم حاضری کے باوجود مکمل کرایہ وصولی، غیر قانونی سکول وینز کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ

چوآ سیدن شاہ 10–16 دن حاضری، 30 دن کا کرایہ ،سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی چکوال، ڈی سی چکوال، اسسٹنٹ کمشنر چوآ سیدن شاہ فوری نوٹس لیں؛ ‘حاضری کے مطابق کرایہ’ نافذ، گیس سلنڈر وینز، اوورلوڈنگ، بغیر لائسنس ڈرائیورز اور جعلی فٹنس سرٹیفکیٹس کے خلاف ہنگامی کریک ڈاؤن کیا جائے

وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی ڈویژن، سیکرٹری ٹرانسپورٹ پنجاب، سی ای او ایجوکیشن و ٹریفک پولیس کو دوٹوک پیغام: غیر قانونی سکول وین نیٹ ورک ختم کریں، کرایوں میں فوری کمی اور مؤثر شکایتی نظام قائم نہ کیا گیا تو سخت عوامی ردعمل ناگزیر ہوگا

چوآ سیدن شاہ (خاور شہزاد)
  بارہا طویل تعطیلات پیٹرول بحران، موسمی شدت اور انتظامی بندشوں کے باعث تعلیمی مہینے کئی بار محض 10 سے 16 ورکنگ دنوں تک محدود رہے، مگر اس کے باوجود سکول وین مالکان کی جانب سے مکمل ماہانہ کرایہ وصولی نہ صرف جاری ہے بلکہ بعض مقامات پر اضافہ بھی کیا جا رہا ہے، جو واضح طور پر سروس کی فراہمی اور وصولی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے؛ والدین کا مؤقف ہے کہ جب گاڑیاں جزوی طور پر چلیں اور ایندھن بھی مکمل خرچ نہ ہوا تو پورے مہینے کا کرایہ کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ متعدد وینز پیٹرول کے بجائے گیس سلنڈرز پر چلائی جا رہی ہیں جبکہ وصولی پیٹرول کے حساب سے کی جا رہی ہے، اوورلوڈنگ معمول بن چکی ہے، کم عمر و غیر لائسنس یافتہ ڈرائیورز کی تعیناتی، فٹنس سرٹیفکیٹس اور روٹ پرمٹس کی خلاف ورزیاں کھلے عام جاری ہیں یہ تمام عوامل طلبہ کی جان و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور کسی بھی وقت بڑے سانحے کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ اس کے باوجود سکول انتظامیہ کی عملی لاتعلقی اور متعلقہ اداروں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور محکمہ تعلیم کی کمزور نگرانی اس غیر منظم نظام کو تقویت دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کے بوجھ تلے دبے والدین مزید مالی استحصال کا شکار ہیں اور شکایات کے مؤثر ازالے سے محروم ہیں۔ موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت پنجاب اور متعلقہ حکام فوری طور پر حاضری کے مطابق کرایہ کا باضابطہ فریم ورک نافذ کریں، گیس سلنڈر پر چلنے والی وینز پر پابندی عائد کر کے انہیں سڑکوں سے ہٹایا جائے، اوورلوڈنگ اور بغیر لائسنس ڈرائیورز کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے، تمام وینز کی فٹنس و روٹ پرمٹس کی ازسرِنو تصدیق کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لائسنس معطل کر کے بھاری جرمانے عائد کیے جائیں، نیز والدین کے لیے فعال شکایتی فورم اور ہیلپ لائن قائم کی جائے تاکہ فوری ریلیف یقینی بنایا جا سکے—بصورت دیگر یہ معاملہ انتظامی ناکامی سے بڑھ کر عوامی اعتماد کے سنگین بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات پورے صوبے میں محسوس کیے جائیں گے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button