سیکرٹری اسکول ایجوکیشن، چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ اور وزیر تعلیم پنجاب کی توجہ درکار

سیکرٹری اسکول ایجوکیشن، چیئرمین ٹیکسٹ بک بورڈ اور وزیر تعلیم پنجاب کی توجہ درکار سرکاری سکولوں میں نصابی کتب کی آدھی فراہمی، مکمل تعلیمی بحران کی علامت
تعلیم پر کفایت شعاری یا پالیسی کی ناکامی؟ ادھوری کتب کے ساتھ نسل نو کے خواب محدود ہونے لگے
چکوال (خاور شہزاد) پنجاب کے سرکاری سکولوں میں گزشتہ دو برس سے نصابی کتب کی نامکمل فراہمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جہاں بیشتر طلباء کو مکمل نصاب کے بجائے صرف پچاس فیصد کتابیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے تعلیمی نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور طلباء، اساتذہ و والدین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے ساتھ مکمل نصاب پڑھانا ممکن نہیں رہا جبکہ طلباء امتحانات کی تیاری میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سیکرٹری اسکول ایجوکیشن، چیئرمین پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور وزیر تعلیم پنجاب کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تمام سرکاری سکولوں میں مکمل نصابی کتب کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر “بچت” ہی مقصد ہے تو اس کا بوجھ صرف بچوں کی تعلیم پر ڈالنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، کیونکہ یہی بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ستھرا پنجاب کے دعوے اس وقت تک کھوکھلے رہیں گے جب تک ستھرا ذہن پروان نہیں چڑھے گا، اور اس کے لیے معیاری اور مکمل تعلیم بنیادی شرط ہے۔ اب یہ ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور فوری عملی اقدامات کے ذریعے طلباء کو ان کا بنیادی حق فراہم کریں



