اہم خبریںنمائندگان کی خبریں

مبینہ حملے کے خلاف لاشاری برادری کا احتجاج، ایف آئی آر درج نہ ہونے پر انصاف کا مطالبہ

کشمور (سید رشید احمد شاہ) کندھکوٹ کے نواحی گاؤں میر مہراڻ خان بجارانی سے تعلق رکھنے والے فقیر نیاز محمد لاشاری سندھ پریس کلب تعلقہ کندھکوٹ پہنچ گئے جہاں انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس موقع پر مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فقیر نیاز محمد لاشاری نے الزام عائد کیا کہ جعفری برادری سے تعلق رکھنے والے غلام نبی عرف منڈھو، علی نواز عرف ساتھی، نور نبی، صادق، گل حسن اور پولیس اہلکار شاہنواز اور نیاز جعفری نے ان پر حملہ کیا۔ ان کے مطابق ملزمان نے لاٹھیوں اور کلاشنکوف کے ذریعے فائرنگ کرتے ہوئے تشدد کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں میر خان، رفیق، انعام، گل حسن اور ابوبکر شامل ہیں جنہیں تشویشناک حالت میں لاڑکانہ ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ایک زخمی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ واقعے کو چار روز گزر چکے ہیں مگر تاحال پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔ ان کا الزام ہے کہ شبیر آباد تھانے کا انچارج اعلیٰ حکام کے احکامات کو نظرانداز کر رہا ہے، حالانکہ ون فائیو انچارج کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ غریب لوگ ہیں اور انہیں انصاف سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی کشمور سے مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لے کر ایف آئی آر درج کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ ڈی آئی جی لاڑکانہ آفس کے سامنے مزید سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button