سیپکو فیڈر سے قیمتی تاریں چوری، 10 روز بعد بھی مقدمہ درج نہ ہو سکا

سیپکو کندھکوٹ ڈویژن کے سب ڈویژن 2 میں واقع دَڑی فیڈر سے 11 ہزار کے وی کی ڈاگ کنڈکٹر تاریں نامعلوم افراد کی جانب سے چوری کر لی گئیں، تاہم واقعے کو 10 روز سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال مقدمہ درج نہ کیا جا سکا، جس پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔تفصیلات کے مطابق سب ڈویژن 2 کے دَڑی فیڈر کے 10 سے زائد پولز سے قیمتی بجلی کی تاریں نامعلوم چور اتار کر لے گئے۔ یہ واقعہ سی سیکشن تھانے کی حدود میں پیش آیا، مگر سیپکو عملے کی جانب سے سرکاری املاک کی چوری کا مقدمہ درج نہ کروانا سوالیہ نشان بن گیا ہےذرائع کے مطابق چوری کے بعد نہ تو اسٹور سے نئی تاریں، کراس آرمز یا پولز فراہم کیے گئے اور نہ ہی متاثرہ فیڈر کی فوری بحالی کے اقدامات کیے گئے۔ اس کے برعکس سب ڈویژن 2 کے افسران نے مبینہ طور پر ازخود اقدام کرتے ہوئے دَڑی فیڈر کا مکمل لوڈ اسکارپ فیڈر پر منتقل کر دیا، جو کہ شہر میں واٹر سپلائی کے لیے مختص ہے واضح رہے کہ اسکارپ فیڈر سندھ حکومت کے تحت شہر کو میٹھا پانی فراہم کرنے کے منصوبے کے لیے منظور شدہ ہے، جہاں بجلی کے ذریعے ٹیوب ویل چلا کر شہریوں کو پانی فراہم کیا جائے گا جو کے منصوبہ ادھورا ٹھیک دار چھوڑ کر چلا گیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس فیڈر پر اضافی لوڈ ڈالنے سے تاروں کی طاقت کم ہو جائے گی واٹر سپلائی پانی کی فراہمی کے باعث متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوجائے گا عوام پاکستان پارٹی کے ضلعی صدر نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، انکوائری کمیٹی قائم کر کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے، چوری شدہ سامان برآمد کیا جائے اور اصل دَڑی فیڈر کو بحال کیا جائے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ یہ بھی تحقیقات کی جائیں کہ آیا اس لوڈ شفٹنگ کے لیے ڈپٹی کمشنر کشمور کندھکوٹ یا سیپکو کے اعلیٰ افسران سے باقاعدہ اجازت لی گئی تھی یا نہیں، اور اگر کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی سامنے آئے تو ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔



