نمائندگان کی خبریں

کندھ کوٹ میں ایک ہی رات دو گھروں میں چوری

کندھ کوٹ میں ایک ہی رات دو گھروں میں چوری، ایک ماہ گزرنے کے باوجود پولیس سامان برآمد نہ کر سکی، متاثرین کا ایس ایس پی آفس کے سامنے دھرنے کا اعلان

سابق ایس ایچ او صفیر جاگیرانی کے پاس انصاف کے لیے چکر لگا کر تھک گئے، نئے تعینات ایس ایچ او علی نواز سبزوئی سے بھی مؤثر پیش رفت نہ ہونے کا دعویٰ، متاثرہ خاندانوں کا ایس ایس پی کشمور سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کندھ کوٹ ( سید رشید احمد شاہ) کندھ کوٹ میں چوری کی وارداتوں کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ سی سیکشن تھانے کی حدود میں تقریباً ایک ماہ قبل ایک ہی رات ایک ہی محلے کے دو گھروں میں چوری کی وارداتوں کے باوجود متاثرہ خاندانوں کو تاحال چوری شدہ نقد رقم اور قیمتی موبائل فون واپس نہیں مل سکے۔ متاثرین کے مطابق وارداتوں میں ملوث ملزمان بھی تاحال گرفتار نہیں ہو سکے، جس کے باعث وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی کشمور سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ایس ایس پی آفس کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا ہےتفصیلات کے مطابق کندھ کوٹ کے سی سیکشن تھانے کی حدود میں تقریباً ایک ماہ قبل نامعلوم چوروں نے ایک ہی رات ایک ہی محلے کے دو گھروں کو نشانہ بنایا۔ متاثرہ خاندانوں کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر ایک گھر کی دیوار پھلانگ کر دوسرے گھر میں داخل ہوئے اور گھروں سے نقد رقم سمیت قیمتی موبائل فون چوری کرکے فرار ہوگئے واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں نے متعلقہ پولیس کو اطلاع دی اور چوری شدہ سامان کی برآمدگی کے لیے کارروائی کی امید ظاہر کی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ماہ گزرنے کے باوجود انہیں کوئی خاطرخواہ پیش رفت دکھائی نہیں دی متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک ہی رات دو گھروں میں چوری کی وارداتیں ہونا اور اس کے بعد طویل عرصے تک چوری شدہ سامان برآمد نہ ہونا ان کے لیے باعث تشویش ہے ان کے مطابق گھروں میں چوری کے واقعات شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ خاندان اپنی جمع پونجی اور قیمتی سامان سے محروم ہونے کے بعد انصاف کے منتظر ہیں
متاثرین نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سابق ایس ایچ او صفیر جاگیرانی کے پاس انصاف کے حصول کے لیے بار بار چکر لگاتے رہے، لیکن ان کے بقول انہیں کوئی مؤثر جواب یا خاطرخواہ نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔ اب سی سیکشن تھانے میں ایس ایچ او علی نواز سبزوئی کی تعیناتی کے باوجود متاثرہ خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں تاحال کوئی مثبت جواب نہیں مل سکا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پولیس حکام سے مسلسل رابطہ کرکے اپنی شکایت کے ازالے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن چوری شدہ سامان کی عدم برآمدگی اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے باعث ان کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے متاثرہ خاندانوں نے ایس ایس پی کشمور سے اپیل کی ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، متعلقہ پولیس کو چوری کی وارداتوں کی مؤثر تفتیش کرنے کی ہدایت کی جائے اور چوری شدہ نقد رقم و موبائل فون برآمد کرا کے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہریوں کی شکایات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے
متاثرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی شکایت پر جلد مؤثر کارروائی نہ کی گئی اور چوری شدہ سامان کی برآمدگی کے لیے عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو وہ مجبوراً ایس ایس پی آفس کندھ کوٹ کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد متعلقہ حکام کی توجہ اپنی شکایت کی جانب مبذول کرانا اور انصاف کا حصول ہے شہری حلقوں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ چوری کی وارداتوں کی شفاف اور مؤثر تحقیقات کی جائیں متاثرین کی شکایات کا ازالہ کیا جائے اور علاقے میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button