چوآ سیدن شاہ تا چکوال 33 کلومیٹر کو ملی بھگت سے 45 بنا کر 300 روپے کرایہ مسلط

وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی، ڈی سی چکوال، اسسٹنٹ کمشنر چوآ سیدن شاہ اور سیکرٹری RTA فوری نوٹس لینے کا عوامی مطالبہ نے زور پکڑ لیا
ایندھن سستا مگر کرایوں کی لوٹ مار بے قابو حکام بالا کب جاگیں گے؟ عوامی و سماجی حلقوں کا فوری ایکشن اور ریلیف کا دوٹوک مطالبہ
چوآ سیدن شاہ (خاور شہزاد) تحصیل چوآ سیدن شاہ میں ٹرانسپورٹ کرایوں کے معاملے نے سنگین اور تشویشناک صورت اختیار کر لی ہے جہاں عوامی و سماجی حلقوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چوآ سیدن شاہ سے چکوال کا تقریباً 33 کلومیٹر فاصلہ مبینہ ملی بھگت کے ذریعے 45 کلومیٹر ظاہر کر کے خود ساختہ طور پر 300 روپے فی سواری کرایہ مسلط کر دیا گیا ہے، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود کرایوں میں کسی قسم کی کمی نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے؛ شہریوں کا کہنا ہے کہ اڈا پر آویزاں پینا فلیکس اور عارضی کرایہ لسٹ کے ذریعے مبینہ طور پر گمراہ کن معلومات دے کر عوام کو کھلے عام لوٹا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ متعلقہ اتھارٹی کی چشم پوشی یا مبینہ ملی بھگت کے بغیر ممکن دکھائی نہیں دیتا، جس پر عوامی حلقے سراپا احتجاج ہیں؛ متاثرہ شہریوں اور سماجی نمائندوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی ڈویژن، ڈپٹی کمشنر چکوال سارہ حیات، اسسٹنٹ کمشنر چوآ سیدن شاہ اور سیکرٹری RTA سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف انکوائری کروائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں اور فی الفور کرایوں میں حقیقی کمی کروا کر عوام کو فوری ریلیف فراہم کریں تاکہ اس مبینہ استحصالی نظام کا فوری خاتمہ ممکن ہو سکے



