شاعریکالمز

"ٹھکراو اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں "

عاطف جاوید عاطف

غزلِ ریختہ اور شاہد کبیر

یکم مئی 1932 کو ناگپور انڈیا میں پیدا ہونے والے اپنے عہد کی غزل کے بہترین شاعر جناب شاہد کبیر صاحب کو دنیا سے پردہ کیے تقریبا ۲۲ برس بیت چکے ۔ ان کا مجمعوعہ کلام "پہچان” دبئی سے ہوتا ہوا مرے ہاتھوں میں پہنچا ۔
یہ غالبا ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ کلام ہے جو 1999 میں مومن پورہ ناگپور سے شائع ہوا ۔ اس سے پہلے شاہد کبیر نے اپنی شعری پہچان 1952 کے بعد بنانی شروع کر دی تھی .کتاب مٹی کا مکان” کے عنوان سے غزلوں کا مجموعہ 1979 میں اس سے پہلے شائع ہو چکا. ان کی بہت ساری غزلیں اور شاعری ہندوستان اور پاکستان کے مشہور گلوکار گا چکے ہیں . جن میں لتا منگیشکر , جگجیت سنگھ ,چترا سنگھ, ہری ہرن, چندن داس ,منی بیگم, سلمان علوی اور صابری برادران سرِ فہرست ہیں .

مجھے نہیں معلوم کہ ان کی کتاب کا دیباچہ لکھنے والے پروفیسر سید یونس سے ان کا تعلق کیا اور کس حد تک ہے مگر ایک جملہ کہ "وہ بیچارہ شاعر کیا کرے کہ جس کے اعصاب پر ابتداۓ شاعری کے دور سے ہی مرزا غالب سوار ہو چکے ہوں” نے مجھے چونکا دیا ۔ میں نے دوبارہ سے کتاب کو دیکھنا شروع کیا تو اُن سے اختلاف کیے بنا نہ رہ سکا کہ ایک شاعر پر غالب کا ٹھپہ لگا دینا نا انصافی نہیں تو اور کیا ہے . وہ شاعر جس نے نہ صرف اپنی شاعری میں کلاسیکیت کو مجروع نہ ہونے دیا بلکہ دور جدید کی شاعری کو بھی کسی نہ کسی طرح سے اپنے ہنر سے جدت دی اور جدید شاعری کا کھلے بازووں سے استقبال کیا .ایسے شاعر کے کام کو کلاسیکیت تک محدود کر دینے سے ظرف چھوٹا پڑ جاتا ہے .

معروف استاد شاعر اور نقاد ڈاکٹر یونس خیال کے مطابق کسی بھی شاعر کی شاعری کو پرکھنا ہو تو اس کی غزل کے مطلعوں سے دیکھو اور اگر شاعر کے بارے جاننا ہے تو اس کے مقطعوں کو دیکھ لیجے ۔زیر مطالعہ کتاب ” پہچان” اپنے آغاز سے ہی قاری کو چونکا دیتی ہے ۔

کسی امیر کو کوئی فقیر کیا دے گا
غزل کی صنف کو شاہد کبیر کیا دے گا

دیکھنے کو تو یہ شعر کسی غزل کا مقطع محسوس ہوتا ہے مگر شاہد کبیر غزل کا آغاز اس شعر سے کر کے قاری کو چونکا دیتے ہیں ۔
ایک اور مطلع سے غزل کی اُٹھان دیکھئیے

بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے
ہم خفا کب تھے منانے کی ضرورت کیا ہے

ایسے نزاکت بھرے نفیس اشعار پر جگجیت جیسا ہنر پسند گائک کیوں نہ مر مٹتا .

شاہد کبیر کی شاعری اور تصوف :

محاکمات الشعراء‘‘ میں محسن نے لکھا ہے کہ

’’کسی ہندوستانی کی طرف سے حزیں کا دل نہ دکھائے جانے کے باوجود انہوں نے ’تذکرۃ الاحوال‘ میں بادشاہ سے لیکر گدائے بے نوا تک کے خلاف زہر اُگلا اور اِس خیال کی اشاعت کی کہ ہندوستان فضل و کمال کے لیے زمینِ شور کا حکم رکھتا ہے۔انہوں نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ انہیں تمام دارالخلافت میں ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آیا جو رتبۂ فضیلت رکھتا ہو۔‘‘(بحوالہ اردو ادب کی تاریخ از تبسم کاشمیری۔ص۲۹۶-۹۷)
سراج الدین علی خانِ آ رز وجو اپنے وقت کے بڑے عالم ،استاداور بڑے شاعر تھے، انہوں نے’’ تذکرۃ الاحوال ‘‘کا حر فاً حرفاً عالمانہ جواب ’’تنبیہ الغافلین ‘‘(۱۷۴۱-۴۳) لکھ کر دیا اور حزیں کی خود سری اور غرور کو توڑنے کے لیے اُس میں پوشیدہ خامیوں اور غلطیوں کی طرف واضح اشارے کیے۔آرزو کی اِس کوشش نے انہیں ہندوستانی شعراء کے درمیان ہیرو بنا دیا ۔اِس تاریخی معرکہ آرائی کے بعد ہندوستانی شعراء کو یہ احسا س ہو گیا کہ فارسی میں خواہ وہ کتنی بھی دست گاہی حاصل کرلیں، ایرانی النسل فارسی شعراء انہیں زبان داں تسلیم نہیں کریں گے۔ لہٰذا آرزو نے جو انہیں فارسی کی جگہ ریختہ (اردو) میں شاعری کرنے کی رغبت دلائی تھی، اُس نے اُس دور کے نو جوان شعراء کو اِس طرف مائل کر لیا اور یہی دلّی دبستانِ شاعری کا نقطہ آغاز تھا ۔اُس دور کے نو جوا ن شعرا ء جن میں بیش تر آرزو کے شاگرد تھے، انہوں نے ریختہ میں شاعری کرنا شروع کر دی ۔ان شعرا کہ ہاں شاعری میں تصوف کا رنگ نمایاں تھا ۔ "

شاہد کبیر کے ہاں حمد اور نعت کے علاوہ بہت سے ایسے اشعار موجود ہیں ۔ جو ان کی روحانی نسبت کی طرف توجہ دلاتے ہیں
جیسے
کیے ہیں اتنے جہاں اور اک کرم کر دے
مرے خدا تو مری خواہشوں کو کم کردے

اوپر اُدھر ہوا کے اشاروں پہ ہے پتنگ
اور اس طرف گمان کے ہاتھوں میں ڈور ہے

انجانے میں بھاگ رہے ہیں لوگ اپنی پرچھائیں سے
اک اک کے قدموں کو پکڑ کر پوچھ رہے ہیں سائے کون

شاہد کبیر بطور جدت پسند شاعر :
دلی دبستان اور لکھنؤ کے شعرا میں بیسویں صدی کے چند گنے چنے ہی ایسے شعرا تھے جنہوں نے آپنی شاعری میں کلاسیکیت کے ساتھ ساتھ جدیدیت کو بھی مجروع نہ ہونے دیا اور نئے امکانات کے لیے ریختے کا دروازہ کھلا رکھا . شاہد کبیر کا شمار بھی ان چند شعرا میں سے ہوتا ہے . ذرا شعر ملاحظہ ہو

غزل میں کوئی نئی بات بھی تو ہو شاہد
ادب میں آپ کی شہرت تو اچھی خاصی ہے

ایک اور شعر دیکھیے

اس سانولے سے جسم کو دیکھا ہی تھا کہ بس
گھلنے لگے زباں پہ مزے چاکلیٹ کے

چاکلیٹ جیسے لفظ کو شاعری میں اس نزاکت اور خوبصورتی سے برتنا اور ایسا برتنا کے قاری کو چاکلیٹ کا ذائقہ لفظوں میں گھل کر روح اندر تک محسوس ہو جائے یہ شاہد کبیر کا ہی خاصہ ہے

جمالیات کا شاعر شاہد کبیر :
کسی بھی شاعر کی شاعری میں موسم اور حسنِ قدرت کا در آنا معمولی بات ہے . لیکن یہ بات خاص تب ہو جاتی ہے کہ وہ ان اثرات کی شدت کو اپنے لفظوں میں ڈھالنے کا ہنر کس طرح آزماتا ہے. فراق , میر تقی میر اور ولی دکنی کی طرح ان کی بے شمار غزلیات میں جمالیات کے رنگ نمایاں ہیں جس کو وہ محبت کے رنگ میں گوند کر خود سے مکالمہ کرواتے ہیں تو شاعری سے خوشبو آنے لگتی ہے ,
کچھ اشعار دیکھئیے .

آتی ہے دبی چاپ سی تم ہو کہ صبا ہے
آنگن میں کوئی پھول چٹکتا ہے کہ تم ہو

زرد ملبوس میں آتی ہیں بہاریں شاہد
اور تو رنگ خزاؤں کا بھی دھانی مانگے

روز آپس میں اُلجھ جاتے تھے دھاگوں کی طرح
کتنے دلچسپ مراسم تھے تمہارے میرے

پھول گلدان میں کانٹے ہیں مرے ہاتھوں میں
میں نے چاہا تھا کہ ہر چیز ٹھکانے سے رہے

اور پھر میری پسندیدہ غزل کا یہ مطلع دیکھیے :

غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی
یہ نذرانہ تیرا بھی ہے میرا بھی

جگجیت اور لتا جی کی آواز میں ریکارڈ کی گئی اس مدھر غزل میں لفظ کسی جھرنے کی طرح دل پہ گرتے ہیں اور سنتے سنتے یہ جھرنا روح کی وادی میں دریا بن اتر جاتا ہے .

اسی طرح ایک اور غزل جسے جگجیت نے ایسی خوبصورتی سے گایا کہ سن کے شاعری اور سُر دونوں کا نشہ ہو جاتا ہے .

ٹھکراو اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں
جو چاہو میرے یار کرو میں نشے میں ہوں

کہیں کہیں شاہد کبیر اپنی دھرتی اور اپنی مٹی سے بھی جڑے نظر آتے ہیں

تباہ کر گئی پکے مکان کی خواہش
میں اپنے گاوں کے کچے مکان سے بھی گیا

اور آخر میں یہ شعر

شاہد صدا لگانے سے پہلے یہ سوچ لو
صدیوں کے بعد بھی تمہیں دہرائے گی صدا

ریختے کی دنیا میں شاہد کبیر کی غزل صدا لافانی ہے اور یقینا بار بار دہرائے جانے کے قابل ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button