کالمز

وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ ترکی

تحریر سید مجتبی رضوان

۔۔.وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ 3 روز کے دورے پر ترکی روانہ ہو رھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہباز شریف ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر ترکی کا دورہ کررہے ہیں۔جہاں پر وہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن سمیت دیگر اعلیٰ ترک عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔وزیر اعظم پاکستان کے ہمراہ ایک اعلی اختیاراتی کا وفد بھی ترکی جائے گاجو کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور تجارت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کرے گا۔دونوں رہنما وں کے درمیان طویل عرصے سے بڑی قریبی مراسم چلے آرہے ہیں۔ترک صدر ایردوان کے ساتھ قریبی مراسم ہی کے نتیجے میں شہباز شریف نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے دور میں پنجاب کی ترقی کی طرف خصوصی توجہ دی تھی اور ترک فرموں کے دروازے پاکستان کے لیے کھول دیے تھے۔اب جبکہ سعودی عرب کے دورے پرپاکستان کے وزیر اعظم ہیں تو دونوں رہنماوں نے اپنے ان مراسم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ترک صدر طیب ایردوان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو سعودی عرب ہی میں ملاقات کا پیغام بھجوایا تھا جسے وزیراعظم شہباز شریف نے بخوشی قبول کرلیا ترک صدر اردوان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو بھیجے گئے پیغام میں کہا ہے کہ ” میں آپ سے ملاقات کا خواہش مند ہوں۔” ترکی کو عالم اسلام میں جو اہمیت حاصل ہے۔ وہ محتاج بیان نہیں ،خاص طور پر صدر اردوان اس وقت جو قائدانہ کردار ادا کر ہے ہیں، اس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے اپنے ہاں جمہوریت کو مضبوط کیا ہے اور خارجہ تعلقات کو متوازن بنایا ہےوزیر اعظم کا ویژن بھی یہ ہے کہ مسلم امہ کو مستحکم کیا جائے اور ان کے درمیان جو چھوٹے موٹے مناقشے ہیں، انہیں ثالثی کے ذیعے حل کرایا جائے۔، اس وقت مسلم امہ کو سب سے بڑے جن دو مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ اور کشمیر پر بھارت کا قبضہ سر فہرست ہیں ۔ باہمی جھگڑوں میں یمن ا ور شام کے مسائل درد سر بنے ہوئے ہیں۔ان دونوں ملکوں میں پراکسی جنگیں ہو رہی ہیں شام میں تو کئی طاقتیں براہ راست مداخلت کر ر ہی ہیں۔ یمن اور شام کے تنازعات سے نقصان بہر حال ان ملکوں کے عوام کو پہنچ رہا ہے۔پاکستان نے اچھا یہ کیا کہ یمن اور شام میں غیر جانبدار رہا۔ ا سلئے ایران اورسعودی عرب کو اس سے کوئی شکائت نہیں ہو سکتی،پاکستان اور ترکی میں اسلام کا رشتہ بھی ہے۔ اسٹریٹیجک رشتے بھی ہیں اور معاشی مفادات بھی دونوں کو ایک ساتھ چلنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ترکی میں سیاسی استحکام ہے جبکہ پاکستان سیاسی اور معاشی طور پر مسائل میں گھرا ہوا ہے اور ترکی سے ہمیں اس سلسلے میں مؤثر راہنمائی مل سکتی ہے۔ترکی کی فرمیں پاکستان میں بزنس کر رہی ہیں اور کئی منصوبوں میں شراکت دار ہیں۔پاکستان کو ترکی پر سبقت ضرور حاصل ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیت کا ایک دنیا لوہا مانتی ہے۔ یہ اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بھی ہے جو ڈیلوری سسٹم سے بھی لیس ہے اور پاکستان کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ عالم اسلام کا قلعہ ہے اورخلیج کے دہانے پر پہریدار کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان کی اس ایٹمی طاقت کی وجہ سے غیر اسلامی بلاک کو یہ ہمت نہیں کہ وہ کسی مسلم ملک کی آزادی کو سلب کر سکے۔ پاکستان کے معاشی مصائب پر قابو پانے میں سعودیہ ا ور ابوظہبی نے کھل کر کردار ادا کیا ہے ،یہ دو ملک پاکستان کے ساتھ چھ ارب ڈالر کے وعدے کر چکے ہیں ۔ اس سے پاکستان کی ا دائیگیوں کے توازن پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر سولہ ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اور عام اندازہ یہ ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم کے دورہ ترکی کے نتیجے میں کیا کچھ ملتا ہے۔ ایسے معاملات میں بار بار مشاورت کرناپڑتی ہے اور مختلف زاویوں سے غورو فکر جاری رہتا ہے لیکن امید واثق ہے کہ ترکی کھلے ہاتھ سے پاکستان کی مدد کرے گا,اور جہاں تک پاکستان میں سرمایہ کاری کا تعلق ہے تو اس میں ترکی کی فرمیں پہلے کی طرح پیش پیش ہوں گی۔اردوان کی قیادت میں ترکی نے قومی انا کی حفاظت کا ثبوت دیا ہے، وہ اب کسی کی دھمکی میں آنے کو تیار نہیں۔ نہ کسی سے دبتا ہےپاکستان اور ترکی کے قریبی تعلقات کی وجہ سے توقع کی جا سکتی ہے کہ کسی وقت آر سی او کو بھی فعال کیا جا سکتا ہے۔اس میں ایران بھی شامل ہے اور یہ ادارہ ترقی یافتہ مسلمان ممالک کے مابین تجارتی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ایک زمانہ تھا کہ اس اتحاد کا وزن عالمی سطح پر محسوس کیا جاتا تھا۔مگر یہ ممالک بتدریج مضبوط قیادت سے محروم ہو تے چلے گئے اور یہ ادارہ بھی پس منظر میں چلا گیا ۔دورہ ترکی کے دوران وزیراعظم دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کی ساتویں میٹنگ میں دفاع، توانائی، تجارت سمیت مختلف موضوعات پر بات ہوگی۔خیال رہے کہ پاکستان کے ترکی کیساتھ اچھے تعلقات ہیں ، اس لیے دونوں اسلامی ممالک مشکل گھڑی میں ہمیشہ ایک دوسرے کے کام آتے رہے ہیں
وزیر اعظم شہباز نے 12 اپریل کو عہدہ سنبھالنے کے بعد بالترتیب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دو غیر ملکی دورے کیے ہیں، کیونکہ وہ تیل کی دولت سے مالا مال ریاستوں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔پاکستان کو بیرونی مالیات کی اشد ضرورت ہے، بہت زیادہ افراط زر کی وجہ سے نقصان ہوا، ذخائر دو ماہ سے بھی کم درآمدات سے کم ہو رہے ہیں، اور تیزی سے کمزور ہوتی کرنسی… پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تجارت کو اعلیٰ سطح تک بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں , پاکستان میں پاک ۔ چین اقتصادی راہداری سی پیک کے باعث شاندار تجارت اوراقتصادی سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں،جبکہ اس اہم منصوبے کے تحت خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے جارہے ہیں.پاکستان بہترین سیاسی رفاقت اور دوستی کو تزویراتی اقتصادی شراکت داری میں بدلنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم کی ترکی کے صدر سے دوطرفہ معاملات پر گفتگو ہوگی، جبکہ ترکی کی اعلیٰ قیادت سے وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوں گے۔ترکی ایک جمہوری، لادینی، آئینی جمہوریت ہے جس کا موجودہ سیاسی نظام 1923ء میں سقوط سلطنت عثمانیہ کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کی زیر قیادت تشکیل دیا گیا۔ یہ اقوام متحدہ اور موتمر عالم اسلامی کا بانی رکن اور 1949ء سے یورپی مجلس اور 1952ء سے شمالی اوقیانوسی معاہدے کا رکن ہے۔ جبکہ یورپی اتحاد میں شمولیت کے لیے مذاکرات طویل عرصے سے جاری ہیں۔
یورپ اور ایشیا کے درمیان محل وقوع کے اعتبار سے اہم مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے ترکی مشرقی اور مغربی ثقافتوں کے تاریخی چوراہے پر واقع ہے۔جدید ترکی کا موجودہ علاقہ دنیا کے ان قدیم ترین علاقوں میں سے ہے جہاں مستقلاً انسانی تہذیب موجود ہے۔ چتل خیوک، چایونو، نیوالی جوری، خاجی لر، گوبکلی تپہ اور مرسین کے علاقے انسان کی اولین آبادیوں میں سے ایک ہیں۔ترکی کے اناطولیہ ریجن کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ یہاں پتھر کے زمانے سے انسان موجود ہے۔ بحر اسود کے ارد گرد کے علاقے میں اب سے دس ہزار سال پہلے آبادی کے آثار ملتے ہیں۔ آسانی کے لیے ہم ترکی کی تاریخ کو ان ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں.ترکی میں قبل از تاریخ کے زمانےکے آثار ملتے ہیں۔ بحراسود کی تہہ میں انسانی آبادی کے آثار ملے ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں یہ علاقے پانی سے باہر تھے۔ کسی جغرافیائی حادثے کے نتیجے میں بحراسود کی سطح بلند ہوئی اور یہ علاقے زیر آب آ گئے۔ قدیم زمانے میں اناطولیہ کا بڑا حصہ عراق کی قدیم اکدانی سلطنت کے زیر اثر رہا ہے۔تاریخی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے طوفان کا زمانہ بھی یہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ انہی کے طوفان کے باعث بحراسود کی سطح بلند ہوئی ہو۔مسلمانوں نے ابتدائی فتوحات ہی میں موجودہ ترکی کے مشرقی علاقوں کو اپنے زیر نگیں کر لیا تھا لیکن اناضول (اناطولیہ) کے وسطی علاقے 9 ویں صدی میں سلجوقوں کی آمد تک مسلم ریاست نہ بن سکے۔ بلاد اسلامیہ پر چنگیز خانکی یلغار کے بعد ترکوں نے وسط ایشیا سے ہجرت کرکے اناضول کو اپنا وطن بنایا۔ جنگ ملازکرد میں رومیوں پر سلجوقیوں کی عظیم فتح نے اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ کر دیا اور یوں ترکی کا بیشتر علاقہ ہمیشہ کے لیے بلاد اسلامیہ کا حصہ بن گیا۔ سلجوقیوں کے زوال کے بعد ترکی کے سیاسی منظر نامے پر عثمانی ابھرے جنہوں نے اسلامی تاریخ کی سب سے عظیم ریاست "سلطنت عثمانیہ” تشکیل دی۔سلطنت عثمانیہ 631 سال تک قائم رہی اور 16 ویں اور 17 ویں صدی میں دنیا کی سب سے طاقتور سیاسی قوت تھی۔ عثمانیوں کی فتوحات ہی کے نتیجے میں اسلام وسط یورپ تک پہنچا اور مشرقی یورپ کا علاقہ عرصہ دراز تک مسلمانوں کے زیر نگیں رہا۔ زوال کے دور کے بعد سلطنت عثمانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کا ساتھ دیا اور بالآخر شکست کھا کر خاتمے کا شکار ہو گئی۔ جنگ کے بعد طے پانے والے معاہدۂ سیورے|Treaty of Sèvres کے مطابق فاتح اتحادی قوتوں نے سلطنت عثمانیہ کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ کر آپس میں تقسیم کر لیا۔

19 مئی 1919ء کو ترکوں نے اتحادی جارحیت کے خلاف تحریک آزادی کا اعلان کیا جس کی قیادت ایک عسکری کمان دار مصطفیٰ کمال پاشا کر رہے تھے۔ 18 ستمبر 1922ء کو تمام جارح افواج کو ترکی سے نکال باہر کیا اور ایک نئی ریاست تشکیل دی گئی جو جمہوریہ ترکیہ کہلائی۔ یکم نومبر 1922ء کو ترک مجلس (پارلیمان) نے خلافت کا خاتمہ کر دیا اور یوں اس طرح 631 سالہ عثمانی عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ 1923ء کو معاہدہ لوزان کے تحت بین الاقوامی برادری نے نو تشکیل شدہ جمہوریہ ترکیہ کو تسلیم کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button