کالمز

محبت کا دوسرا نام ہے ماں


صبح صبح کا وقت تھا ابھی تک میری آنکھ نہیں کھلی تھی کہ مجھے محسوس ہوا کسی نے پیار سے اپنا ہاتھ میرے چہرے پر پھیرا اور پیار کرنے لگا
میں نے انگڑائی لی اور کہا کون ہو ؟
کیا دیکھتا ہوں کہ وہ میری ماں تھی میں نے اپنی ماں کو گلے لگایا اور ماں سے پوچھا ماں!
آج صبح صبح آپکو مجھ پر اتنا پیار کیوں آ رہا ہے..ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے ماں کہنے لگی بیٹا میں نے رات کو ایک بہت برا خواب دیکھا
میں نے پوچھا کیسا خواب ماں
پھر ماں کہنے لگی بیٹا تم گرتے ہو اور تمہیں چوٹیں آ جاتی ہیں
ماں پھر سے مجھے چومنے لگ جاتی ہے اور بے شمار دعاؤں سے نوازتی ہے اور کہتی ہے کبھی میرا بیٹا نا گرے ہمیشہ جیتا رہے اور شیر بن کے رہے. میری آنکھوں میں بھی آنسو آ جاتے ہیں اور میں اللّٰہ پاک سے دعا کرتا ہوں یا اللّٰہ میری ماں کا سایہ ہمیشہ میرے سر پر قائم و دائم رکھنا..اور میری ایک تمنا تھی شوق تھا جزبہ تھا کہ پاک آرمی کا فوجی بنوں اور میری ماں کی بھی یہی تمنا تھی میری ماں کی اٹھٹے بیٹھٹے چلتے پھرتے نماز پڑھنے کے بعد یہی دعا ہوتی تھی کہ اے اللّٰہ میرے بیٹے کی نیک خواہشات کو پورا فرما..اور پھر وہ دن آگیا کہ میں اللّٰہ پاک کے کرم سے آرمی میں سلیکٹ ہو گیا
ایک دن ایسے ہی بیٹھے بیٹھے میں نے اپنی ماں سے کہا ماں تم تو مجھے خواب میں بھی گرتے دیکھ کر برداشت نہ کر سکی تیری ممتا تڑپ اٹھی اور فوج میں تو مجھے بہت ذیادہ رگڑا دیں گے اس کے بعد اس وطن کے دفاع کیلئے باڈر پر بھیج دیں گے وہاں پر تو موت ہر وقت سر پر ہوتی ہے کسی بھی وقت دشمن کی گولی میرا سینہ چیر کے چلی جائے..ماں ایک دم چپ ہو گئی اور میری طرف تھوڑے سے غضے والی نگاہ دیکھتی ہے اور کہتی ہے میرا پتر اگر میں تیری ماں ہوں تو یہ دھرتی بھی تیری ماں ہے مجھے کوئی خوف نہیں کیونکہ ایک ماں دوسری ماں کو بیٹا سونپ رہی ہے اور میں نے تمہیں اپنے پیارے اللّٰہ کے سپرد کردیا ہے اور مجھے فخر ہو گا کہ میرا بیٹا سبز ہلالی پرچم میں لپٹے ہوئے آئے گا… اس وقت اپنی ماں کا جذبہ دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے
I salute to my mom

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button