کالمز

فکر آخرت

ازقلم شازے چوہدری گجرات

اتفاق سے کچھ دن پہلے جیل کا وزٹ کرنے کا موقع ملا وزٹ کرتے وقت میرے دماغ میں بہت سی باتیں آئیں اور بہت سے سوالات جوابات اٹھنے لگے لوگ اپنے پیاروں کو ملنے کے لیے دور دور سے آئے ہوئے تھے اور ہر فرد ہی ساتھ کچھ نہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء بھی اٹھائے ہوا تھا اور اپنے پیاروں سے ملاقات کے منتظر تھے ایسے ہی بیٹھے بیٹھے میں سارا منظر دیکھتی رہی اتنے میں ملاقات کا پہلا بیج نکلا میں بھی ساتھ ہی نکلی اب تمام قیدیوں کو ملاقات کے لیے لایا جارہا تھا اور میرا سارا دھیان قیدیوں میں تھا اور ان سے ملنے والے بچے بوڑھے بزرگ ماؤں بہنوں میں تھا تمام قیدی جالیوں سلاخوں کے پیچھے سے اپنے ملاقات آنے والوں کو بہت آس امید کے ساتھ دیکھ رہے تھے اور کچھ باقی قیدی اپنی اپنی باری پہ آتے جارہے تھے آتے ہی وہ اپنی نظریں آگے پیچھے دوڑانے لگ جاتے کہ شاید انکے خاندان گھر دوست احباب میں سے کوئی ان سے ملنے آیا ہو اور اگر کوئی آیا ہوا تو ساتھ کوئی نہ کوئی خبر پیغام یا کھانے پینے کی اشیاء ضرور لے کے آیا ہو گا
لیکن اگر ان میں سے کوئی بھی نہیں گیا ہوتا تو وہ بجھ سے جاتے تھے یہ سب منظر دیکھ کے میرا دل بہت دکھا اور ساتھ ہی ساتھ دھیان آخرت کی طرف چلا گیا کہ موت برحق ہے ہر نفس نے موت کا ذائقہ چھکنا ہے اور جب ہم میں سے کوئی بندہ دنیا فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو وہ بھی وہاں لاچار بے بس مجبور ہوکے رہ جاتا ہے وہ بھی اپنے پچھلے کی راہ تکتا رہتا ہے کہ وہ لوگ انکی قبر پہ جائیں فاتحہ خوانی دعائے مغفرت کریں اس کو بھی اپنے پچھلوں سے قرآن خوانی اور دعاؤں کی اشد ضرورت ہوتی ہے وہ بھی ان جیل کے قیدیوں کی طرح اپنے پچھلے بہن بھائی دوست احباب کی جانب سے ملاقات کا طلبگار ہوتا ہے اسکو بھی آئے روز ایسے ہی انتظار ہوتا ہے کہ پیچھے سے کوئی آئے اور ساتھ درود پاک یا فاتحہ کا تحفہ لیتا آئے اب یہاں ایک اور بات سوچنے کی ہے بلکہ یوں کہیں کے سوچنے نہیں عمل کرنے کی ہے کہ ہمیں اس دنیا میں اپنے عمل و اعمال اچھے رکھنے چاہیے نماز روزہ کی پابندی کرنی چاہیے ہر نیکی اور بھلائی کے کام میں حصہ لینا چاہیے ہر وہ اچھا اعمال کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے جس سے ہمارا پروردگار ہم سے راضی ہو جائے سبکو خوش رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے لوگوں کے دلوں سے نہیں کھیلنا چاہیے کیونکہ دل خدا کا گھر ہے ہر وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جو ہمیں اچھائی کی طرف لے کے چلتا ہے یہاں اک واقع یاد آگیا اک بزرگ کہی جارہے تھے راستے میں انکو نیند آگئی تو کچھ دیر نیند کی غرض سے اس سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ گئے اور سو گئے اب سوتے ہوئے خواب میں وہی درخت دیکھا جو آپ سے مخاطب ہوکے کہنے لگا آپکو بھی ہماری طرح ہونا چاہیے لوگ ہمیں پتھر مارتے ہیں اسکے بدلے ہم انکو پھل دیتے ہیں درخت کی اس بات پہ وہ بزرگ خواب میں ہی اس درخت سے کہنے لگے اگر تم اتنے ہی اچھے ہو تو تمہیں ایندھن کیوں بنایا گیا تمہیں کاٹ کر جلایا کیوں جاتا ہے جس پہ درخت نے جواب دیا ہم میں خوبی کے ساتھ ساتھ اک خامی بھی ہے جب ہوا چلتی ہے تو ہم اپنا رخ بدل لیتے ہیں جس سمت کی ہوا چلتی ہم بھی اسی سمت جھکنے لگتے اسلیے ہمیں اسکی یہ سزا دی گئی اس پروردگار کو ہرگز ایسے لوگ پسند نہیں جو ہر سمت پہ بدل جائیں اب بات اس مثال کو سمجھنے کی ہے کہ ہم لوگ بھی صرف نام نہاد مسلمان ہیں باقی جو جیسا ٹرینڈ چل رہا ہوتا اسکی سمت چلنے لگتے ابھی ٹک ٹاک ایپ کو ہی دیکھ لیں جیسے ہی کوئی ٹرینڈ آتا سب اسی کی سمت ہو جاتے باقی ہم نمازیں تو پڑھتے ہیں مگر ہمارا دھیان کہیں اور ہوتا ہم سجدے میں جاتے تو اپنے دوستوں کو سوچ رہے ہوتے نماز تو صرف بطور فرض پورا کر رہے ہوتے ہیں باقی دھیان دنیا داری کی طرف ہوتا اپنے اس پروردگار سے ہی غداری کر رہے ہوتے ہیں بات کو مختصر کر کے اتنا کہونگی اپنے اعمال بھی درست کر لیں اور اپنے پیاروں کی قبروں پہ بھی ضرور چکر لگا لیا کریں آج ہم انکی قبروں پہ جائینگے فاتحہ خوانی کرینگے تو کل کو ہماری اولادیں بھی ہمیں دعاؤں کے تحفے بھیجتی رہینگی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button