اہم خبریںپاکستان

سید فخر امام کا قومی زرعی تحقیقاتی مرکز میں جدید ترین "این جی ایس لیبارٹری” کا افتتاح

اسلام آباد ( محمد فیصل ندیم سے) غذائی تحفظ ایک عالمی چیلنج ہے اور مسلسل بڑھتی ہوئی عالمی آبادی (2050 میں 10 بلین ہونے کی توقع ہے) کو کھانا کھلانے کے لیے زراعت میں جدید جینومکس، بائیو ٹیکنالوجی اور تیز رفتار افزائش کا استعمال ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار سید فخر امام وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے قومی زرعی تحقیقاتی مرکز، اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے جینومکس اینڈ ایڈوانسڈ بائیو ٹیکنالوجی میں ”نیکسٹ جنریشن ڈی این اے سیکوینسنگ اینڈ این جی ایس لیب کا افتتاح“ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کے موقع پر کیا۔ سیمینار میں ڈاکٹر غلام محمد علی چیئر مین پی ے آرسی ، زرعی تحقیق دان اور اعلی افسران موجود تھے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر سید فخر امام نے مزید کہا کہ مجھے یہ اعلان کرکے بے حد خوشی ہوئی ہے کہ "آج میں نے جدید ترین NGS مشین کا افتتاح کیا ہے”، مجھے خوشی ہے؛ کہ PARC کے سائنسدانوں نے ایک انتہائی اعلی تھرو پٹ NGS پلیٹ فارم حاصل کیا ہے ۔این جی ایس سہولت کی تنصیب پاکستان میں زرعی پیداوار بڑھانے میں جدید جینومک تکنیکوں کے استعمال کی طرف ایک مثالی تبدیلی ہے۔انہوں نے منفرد اور جدید ترین انسٹی ٹیوٹ برائے جینومکس اینڈ بائیو ٹیکنالوجی(نگاب) کے قیام پر ڈاکٹر غلام محمد علی کی خدمات کو سراہا۔سید فخرامام نے پاکستانی فصلوں جیسے گنے، گندم، مکئی، چاول اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے جدید افزائش نسل کی تکنیک اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے پڑوسی ممالک بالخصوص چین کی زرعی ترقی کا جائزہ پیش کیا، گزشتہ برسوں کے دوران چین نے جینومکس اور بائیو ٹیکنالوجی پر مبنی افزائش نسل کے اداروں کے قیام میں زبردست پیش رفت کی ہے، بدقسمتی سے پاکستان جدید افزائش نسل کو اپنانے میں پیچھے ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ تفویض کردہ کام اور ملک کے ساتھ وابستگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ان کا خیال تھا کہ زراعت میں جینومکس اور بائیو ٹیکنالوجی کے حقیقی فوائد سے فائدہ اٹھانے کے لیے دنیا کے مشہور اداروں میں سائنسدانوں کی تربیت بھی ضروری ہے۔انہوں نے طلباءاور محققین کو مشورہ دیا کہ وہ چین اور دیگر ممالک کے بین الاقوامی اداروں سے تربیت حاصل کریں جنہوں نے افزائش نسل کی جدید تکنیک تیار کی ہے تاکہ ان تکنیکوں میں پاکستانی اداروں کی ترقی ہو سکے۔ اچھے معیار اور سائنسی طور پر ہنر مند انسانی وسائل کامیابی کی کنجی ہے۔
ڈاکٹر غلام محمد علی چیئرمین پی اے آر سی نے کہا کہ نیکسٹ جنریشن ڈی این اے سیکوینسنگ (این جی ایس) نے جینومک سلیکشن کے ذریعے زرعی بائیو ٹیکنالوجی اور جینومکس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور ڈیزائن اپروچ کے ذریعے جینوم کی بنیاد پر افزائش نسل کی ہے۔. نیز یہ پلیٹ فارم زراعت میں جدید بائیو ٹیکنالوجی اور جینومکس ریسرچ کے بہت سے پہلوو¿ں میں سہولت فراہم کرے گا جیسے ٹرانس جین سے پاک فصلوں کی پیداوار، فصلوں میں ڈیزائن کے ذریعے جینوم پر مبنی افزائش، جینومک سلیکشن اور اقسام کی نشوونما، غیر اہداف، GWAS پر مبنی نئے جینز کی دریافت،فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن میں پیوریٹی ڈٹیکشن میں مختلف اقسام کی منظوری کے لیے GBS پر مبنی DNA فنگر پرنٹنگ، IPR کے لیے سرٹیفیکیشن، تصدیق شدہ پلانٹ نرسریوں کی پرورش اور پاکستان میں مویشیوں کے شعبے میں دودھ اور گوشت کی اعلی نسلوں کا انتخاب۔ نیکسٹ جنریشن ڈی این اے سیکوینسنگ لیب نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسی ممالک کو بھی پائیدار بنیادوں پر این جی ایس خدمات فراہم کرے گی۔ مزید برآں، اس سے چین کے ساتھ ہماری تحقیق کو تقویت ملے گی۔
سیمینار میں نامور سائنسدانوں نے ڈی این اے سیکوینسنگ پلیٹ فارمز اور زراعت میں ان کے استعمال کے بارے میں اپنے نتائج بھی شیئر کئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button