کالمز

{زندگی کی حقیقت}


نورلھدیٰ شاہ
راولپنڈی
زندگی کی حقیقت پر آگر نظر ڈالی جائے تو ایک ہی مقصد نظر آتا ہے اور وہ مقصد ہر مسلمان کو پتہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے عبادات کے لیے پیدا کیا ہے اور زندگی ایک امتحان ہے اور واپس اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔قرآن مجید میں بہت سے سورتوں میں واضح طور پر بتایا گیا ہے۔
ہر انسان جانتا ہے زندگی کا کہیں نہ کہیں اختتام ہونا ہے یہ دُنیا ایک سراب ہے ایک امتحان ہے۔ اب ہمارے اختیار میں ہےکہ ہم زندگی کو کس طرح بسر کرتے ہیں ۔ویسےایک بات ہےہم انسان ہوتےبہت خودغرض جب ہم خوشحال زندگی جی رہےہوتےہیں توکسی چیزکی پروانہیں کرتے،لیکن جب ہم لڑکھڑاتےہیں تب شاید ہم تھوڑاساسمجھ پاتے ہیں۔ ہمیں تب زراساسنبھل جانےکاموقع مِل جاتاہے۔ پھرشایدکچھ سمجھ دار لوگ ہی قدرت کے اِشاروں کو سمجھ پاتےہیں کچھ واقعات، حادثات اور ٹھوکر زندگی میں بہت کچھ بدل کےرکھ دیاکرتے ہیں اور مجھے لگتا ہے یہ ہمیں سنبھل جانے کےلیے رونما ہوتےہیں..!
میں بھی شاید تھوڑا ساہی سمجھ پائی ہوں کہ زندگی کیا ہے۔کبھی کبھی کچھ واقعات
سوچنے پر مجبور کر دیتے ہے۔یاکچھ چیزیں خود ہی انسان محسوس کرلیتا ہے بہت عرصہ میں نے اِس بارے میں سوچاکہ زندگی کیاہے بس میں توتھوڑا ہی جان پائی ہوں کہ زندگی حسین ہونے کے ساتھ ساتھ بے حس بھی ہے زندگی کھبی دھوپ کبھی چھاؤں،کبھی بہت خوبصورت ہوتی ہےتو کبھی بہت بدصورت رُخ اِختیار کر لیتی ہے کبھی ایساصحرا بن جاتا کہ بادل کے ٹکڑے کو دیکھنے کےلئے رُل جاۓ زندگی کبھی سیلاب بن کے سب بہالےجاۓ زندگی کودیرنہیں لگتی کسی کوعرش سےفرش تک کاسفر پلکیں جھپکنےتک کےوقت میں کروادیتی ہے۔کبھی میٹھاس سے بھرپور کے چینی کی اوقات مانند پڑھ جاۓ توکبھی زہریںِ شریں پیلا دے اورہم دیکھتے رہ جاۓ۔کبھی آسمان کاروشن چمکتاستارہ بنا دےکہ واہ واہ ہوجاۓ کبھی یوں کہ آسمان کی بلندیوں سے دھکا دے کرپستی میں گِرا دے کے آہ آہ ہو جاۓ۔کبھی اُٹھاکے تپتی دھوپ میں لا کھڑاکردیتی کبھی پُرشفقت سایہ فراہم کردیتی ہے۔کبھی اتنی مصیبتیں کہ پریشانی رگ رگ میں سرایت کریں کبھی ایسی دلکش کہ آب ِحیات پیا جاۓ کبھی کھٹی کبھی میٹھی۔یہ سب زندگی کی حقیقتیں ہیں زندگی کو سمجھنا بہت مشکل ہے کم ازکم میں تو یہی جان پائی ہوں۔مجھ سے پہلےکتنےلوگوں نےزندگی کو سمجھناچاہاہوگااوراس موضوع پر لکھابھی ہوگا سب نےاسے اپنے انداز سے اپنے نظریہ سے بیان کیاہوگا میں نے سوچاکہ میں بھی اسے اپنے الفاظ میں پیش کردوں لیکن مجھے اِک بات سمجھ نہیں آئی کہ زندگی کے دو رُخ ہوتے ہیں یا وقت کے زرا آپ لوگ بھی توجہ فرمائیں اس بات پہ، دیکھئیے زندگی کے بھی دورُخ ہوتے ہیں اچھایا بُرالیکن یہ بات تووقت کی بھی ہےاچھایابُرامیں نے ان دو باتوں کے بارے میں بہت سوچھا اورمیں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ مجھے یہ دونوں باتیں مشترکہ لگی ہے زندگی اور وقت کی دونوں کے ہی دو رُخ ہےخیر چھوڑیں یہ بات مجھے پتہ ہے کوئی اس بات پر زیادہ غور نہیں کریگا زندگی کے ہزاروں رنگ ہیں روز وہ اپنے اک نئے رنگ سے روشناس کرواتی ہے جیسے ہی ہم اس رنگ کو سمجھنے لگتے ہیں وہ دوسرا رنگ روپ ہم پر واضح کرادیتی ہے بہت مشکل ہے اس حقیقت کے راز کو سمجھنا کسی نے کیا خوب لکھا ہے
یہ جو زندگی کی کتاب ہے
یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
کہیں اک حسین خواب ہے
کہیں جان لیوا عذاب ہے
چھین لیتی ہے ہر خوشی
کہیں مہربان بے حساب ہے
کہیں چھاؤں ہے کہیں دھوپ ہے
کہیں اور ہی کوئی روپ ہے
کتنی خوبصورتی سے زندگی کو بیان کیا گیا ہے اس ایک نظم میں زندگی بالکل ایسی ہی ہے۔
زندگی خوبصورت ہوتوزندگی کو آپ جان نہ پاۓ گےاس وقت یہ بےحدحسین ہوتی ہےلیکن جب یہ بدصورتی پر اُ تر آتی ہے تب آپکویہ اپنی جانب متوجہ کرواتی ہے پھر آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ زندگی کیا ہے آخر میں ایک بات بتا تی جاؤں کے زندگی کو حقیقی معنوں میں اگر جاننا ہے تو خدا کی طرف اپنا سفر جاری رکھیں۔اور مجھے امید ہے کہ وہ ہمیں زندگی کی حقیقت سے ضرور روشناس کروایا گا اور جب ہم جان جائیں گے تو خود سے خدا تک کا سفر بہت حسین ہوگا۔

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button