کالمز

زندگی کیا ہے؟

از قلم: شارق عزیزؔ میاں اعوان، نوشہرہ سٹی سون ویلی
زندگی کیا ہے؟ زندگی چاہے جانے کا نام ہے زندگی میں کبھی انسان کو بہت بڑی خوشی حاصل ہوتی ہے تو بعض اوقات ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے، کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے کے مصداق کبھی اِس قدر، کبھی در بدر، کبھی اِدھر اُدھر کی ٹھوکریں بھی کھانے کو ملتی ہیں۔ زندگی میں محبت ہے اور محبت شیریں و فرہاد، لیلیٰ مجنوں سسی پنوں ہیر رانجھا کے لازوال عشق کی ایک طویل داستان ہے۔زندگی عشق و عاشقی کا نام ہے، ایک دیوانگی کا نام ہے زندگی اِک سمندر ہے زندگی ایک جزیرہ ہے زندگی ایک نغمہ ہے زندگی کوئی نالہ ہےزندگی ساز اور سُر ہے زندگی پیار کا بادل ہے زندگی آگ کا دریا ہے زندگی کسی سے توقع رکھنا ہے زندگی کسی سے پیار کرنے کا نام ہے۔زندگی کسی کو نظرانداز کرنے کا نام ہے۔زندگی کسی کا انتظار کرنے کا نام ہے۔زندگی کسے سے روٹھ جانے اور اُسے دوبارہ منانے کا نام ہے زندگی اپنے محبوب کے ہجر میں آنسو بہانے کا نام ہے زندگی میں جدائی بھی ہے تنہائی بھی ہے۔زندگی خوبصورت ہے زندگی محبوب کی صورت ہے زندگی سراپا عشق ہے اور عشق ایک ضرورت ہے زندگی دین بھی ہے۔ایمان بھی ہے۔زندگی ایک زیور ہے اور ہر گھڑی اِس کو کھو دینے کا دھڑکا سا لگا رہتا ہے زندگی کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگا کرتے ہیں۔زندگی وہ ہے جب تک کہ انسان کی جیب میں سکے کھنکتے رہیں وگرنہ موت تو بھری جیب کے خالی ہونے کا نام ہے حقیقی زندگی پانے کے لئے خدا کے عشق میں فنا ہونا پڑتاہے، حضرت ایوب ؑ کی طرح صبر کی حد کو مٹانا پڑتا ہے۔حضرت یوسف ؑ کی طرح اپنے حُسن کا جلوہ دکھانا پڑتا ہے۔حضرت منصور حلاجؒ کی طرح خود کوسولی پہ چڑھانا پڑتا ہے۔حضرت شاہ شمس تبریزؒ کی طرح اپنی کھال کو کھنچوانا پڑتا ہے حضرت سرمدؒ کی طرح اپنی گردن کٹوانی پڑتی ہے حضرت قاسم ؓ کی طرح اپنے سہرے کی لڑیاں کٹوا کے شرابِ وحدت نوش کرنا پڑتا ہے حضرت شہزادہ علی اکبرؓ کی طرح اپنی جوانی لٹانی پڑتی ہے ننھے حضرت شہزادہ علی اصغرؓ کی طرح سوکھے حلق پہ تیر کھانا پڑتا ہے۔امام عالی مقام، حضرت امام حسین ؑ کی طرح سجدے میں سر کو کٹوا کے اپنے ناناﷺ کا دین بچانا پڑتا ہے اور حضرت بابا بلھے شاہؒ کی طرح ناچ کے اپنے مرشد کو منانا پڑتا ہے۔زندگی تومحض اللہ رب العزت اور پیارے نبی اکرم ﷺ سے عشق کرنے کا نام ورنہ زندگی سوائے مسلسل دھوکے اور فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔زندگی کی حقیقیت کوآسمانِ سخن کے درخشندہ ستارے اور مشہورِ زمانہ شاعر جوشؔ ملیح آبادی اپنے اشعار میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں
زندگی باگیشری سارنگ دیپک سوہنی
بت تراشی رقص موسیقی خطابت شاعری
پنکھڑی تتلی صنوبر دوب نسریں چاندنی
لاجوردی شربتی دھانی گلابی چمپئی
زعفرانی آسمانی ارغوانی زندگی
لاجونتی مدھ بھری کومل سہانی زندگی
زندگی جام و صراحی مرغ زار و نسترن
اک سجاوٹ، اک گھلاوٹ اک لگاوٹ اک پھبن
رقصِ طاؤس و جمالِ صبح و رنگ ناروَن
گل نفس گل چہرہ گل خو گل جبیں گل پیرہن
رقصِ ابر و نغمہء آبِ رواں ہے زندگی
خاکِ بے آواز کے منہ میں زباں ہے زندگی
زندگی یوسف زلیخا، قیس و لیلیٰ نل دمن
عید کا دن چودھویں کی رات چوتھی کی دلہن
اک کھنکتی لب کشائی ایک چھبتا بانکپن
رنگ ساگر، راگ مندر، روپ مالا، پھول بن
جس کی قرنوں حجلہء قدرت میں رکھوالی ہوئی
بدلیوں کی رسمساتی چھاؤں کی پالی ہوئی
تو یہ ہے زندگی کی حقیقت۔ مردِ مومن، قلندرِ لاہوری شاعرِ مشرق حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؔؒ فرماتے ہیں کہ:
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سُراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن۔

Related Articles

2 Comments

  1. ماشاءاللہ بہت خوب۔ الفاظ کی بندش اور مختلف مثالوں اور تلمیحات کے ذریعے زندگی کی حقیقت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
    اللہ پاک کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ آمین ثم آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button