کالمز

رحمت کا عشرہ (رحمتوں کے حصول کے دن)

"چشم بار ہو کہ مہمان آ گیا
دامن میں الہی تحفہ ذیشان آ گیا
بخشش بھی، مغفرت بھی،جہنم سے بھی نجات
دست طلب بڑھاؤ کہ رمضان آ‌گیا”

رمضان المبارک بہت برکتوں, رحمتوں اور بخشش کا مہینہ ہے۔یہ ماہ مبارک اپنی برکات اپنے انعامات اور ﷲ کی عطا و بخشش کے اعتبار سے تمام مہینوں کا سردار ہے۔جسے ﷲ تعالی نے اپنا مہینہ قرار دیا ہے۔حدیث نبوی صلی ﷲ علیہ والہ وسلم میں ہے۔’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ (أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب هل یقال رمضان أو شهر رمضان ومن رأی کله واسعا، 2/672، الرقم: ) اللہ تعالی کی رحمت، بخشش اور لطف وکرم کے دروازے ہر خاص و عام اور نیک و بد کے لیے کھلے رہتے ہیں۔کریم رب نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کی امت کو بہت سارے لامحدود خزانوں سے نوازا ہے۔ اس مہینے کے ہر ہر لمحے میں رحمتوں کی برسات ایک منفرد شان کے ساتھ اپنے پیاسوں کو ڈھونڈتی اور سیراب کرتی نظر آتی ہے۔اس کی برکات سے بڑھ چڑھ کر مستفید ہونے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کے استقبال کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ناواقف و غافل اس کی برکات سے محروم نہ رہے اور رمضان کے احترام کے صدقے اس کا بیڑا پار ہوجائے۔ سورت البقرہ کی ( آیت نمبر ١٨٥) میں ﷲ پاک فرماتے ہیں۔’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اُتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے،ﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لیے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لیے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔‘‘حضور اکرم ﷺ نے اس مہینے کو تین عشروں میں تقسیم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اس ماہ کا پہلا عشرہ (دس دن) اﷲ کی رحمت ہے، دوسرا عشرہ مغفرت ہے جب کہ تیسرا اور آخری عشرہ (جہنم کی ) آگ سے آزادی ہے۔چونکہ پہلا عشرہ رحمت کا عشرہ ہے۔
قرآن پاک میں اکثر مقامات پر رحمت کا ذکر آیا ہے جس کے معنیٰ کسی پر رحم کرنا، ترس کھانا اور مہربانی کرنا ہیں۔ اپنی صفات کی بنا پر اﷲ کے ننانوے ناموں میں الرحمن اور الرحیم بھی شامل ہیں جس کے معنیٰ بہت رحم کرنے والا اور نہایت مہربان کے ہیں۔ارشاد باری ہے:اور اﷲ تو جسے چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے اور وہ بڑے فضل کا مالک ہے۔(سورۂ بقرہ آیت١٠٥) اس عشرے میں ﷲ تعالی کی عطا کردہ رحمتوں سے اپنے دامن بھر لیں۔اور ان ایمانی گھڑیوں کی قدر کریں۔ان بیش بہا لمحات کو اپنے لیے مہلت سمجھیں جو خالق حقیقی کی جانب ہمیں دی جا رہی ہیں۔اور یہ امید رکھیں کہ وہ بڑا رحیم و کریم ہے۔ہمیں اپنی رضا اور خوشنودی سے ضرور نوازے گا۔انشاءﷲ اور کثرت سے توبہ استغفرﷲ اور رحمت کے عشرے دعا پڑھیں۔
رَبِّ اغْفِرُوَارْ حَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ
ترجمہ: اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔
ہر گھڑی رحمت بھری ہے ہر طرف ہیں برکتیں
ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں کی کان ہے

آگیا رمضان عبادت میں کمر اب باندھ لو
فیض لے لو جلد یہ تیس دن کا مہمان ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button