کالمز

خاندان سائبان

عروج فراز

اک حکمران اپنی قوم کو لے کے چلتا ھے اس میں انصاف ناانصافی کو اپنی زمہ داری سمجھتا اسی طرح ایک استاد اپنے شاگرد کو ساتھ لے کے چلتا کوچ اپنی کھیلاڑی ٹیم کو ایک کامیاب لکھاری نئے لکھاریوں ہمراہ قلم کی لو کو جگمگاتا تو اسی طرح خاندان سائبان یعنی والدین اپنے گھر کو لے کے چلتے اگر یہ تمام زرا سی بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کریں گے تو سب بکھر جائے گا خاندان سائبان یعنی کے ہمارے والدین ہماری دنیا اور آخرت میں کامیابی کا راز ان ہی کی بدولت ھے جنت جہنم ہمارے اختیار میں ھے اک مشہور کلام زہن میں گردش کر رہا کے”باپ سِراں دے تاج مُحمد تے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں نی”یعنی ماں باپ کے بغیر بے معنی بے مقصد ذندگی روکھی پھیکی اک غمزدہ کونے میں پڑی ہوئی ہمارے خاندان سائبان یعنی ہمارا سایہ جو ہمیں اس دنیا کی ہر اچھی بری دھوپ سے محفوظ رکھنے کے ہر وقت تگ و دو میں رھتے عظیم ہستی ماں جس کے بغیر جینا ھم تصور بھی نہیں کر سکتے اور باپ جو ناجانے اپنے بچوں کے چہروں پہ مسکراہٹ کے لیے زمانے بھر میں دھکے کھاتا اور مشکل وقت میں بیوی بچوں پہ سایہ بن کے کھڑا ہوجاتا میرا ماننا یہ ھیکہ دنیا میں لامحدود خالص کبھی نہ ختم ہونے والا پیار والدین یعنی ہمارے خاندان سائبان کا ھے ہمارے مذہب میں والدین کے حقوق کی سخت تلقین بھی کی گئی انہیں جھڑکنا دور کی بات انکے آگے اُف تک نہیں کرناوالدین گھر کا وہ ستون ہوتے ہیں جن کے بغر گھر اک دیمک ذدہ قید خانے جیسے معلوم ہوتا جیسے بے جان جسم بغیر روح کے ہو بہار کا موسم ہوتے ہوئے بھی خزاں رہنا ہر طرف کے بے معنی ذندگی دنیا سے کٹ کے رہ جاتی ھے۔خاندان سائبان یعنی ہمارے والدین مذہب نے کچھ حقوق انکے کچھ اولاد کے رکھے اور دونوں کو نظر انداز نہ کیا جائے نہ دل آزاری بیٹے بیٹی دونوں میں امتیاز نہ رکھا جائے انہیں وراثت میں سے بے دخل نہ کر دیا جائے بیٹی کو بھی وہ ہی حقوق دیں جو کے بیٹے کے لیے متعین کئے گئے اسکے برعکس بیٹی بیٹے کو اپنے والدین کی خوشی عزت کا پورا خیال رکھنا چاہئے نہ کے باغی ہو کر تا حیات والدین کے دکھوں میں اضافے کا سبب بنیں یہ بات تو بجا ھیکہ گھر کو گھر تب کہ سکتے ہیں جب اس میں والدین موجود ہیں اسکے علاوہ وہ گھر نہیں اک وقت گزاری کا ٹھکانہ ہیں میرا ماننا ھیکہ والدین کی موجودگی سے گھر میں رونق ھے ماں آنے والی تمام مشکلات میں پروں کے نیچے بچوں کو کر دیتی ھے۔لیکن کیا آج کے اس دور کی ماں واقعی میں اپنے بچوں کی بہترین تربیت میں کامیاب ھے یا ناکام کہیں مغرب ھم پہ حاوی تو نہیں ہورہا کہیں ھمارے مظبوط خاندان کو توڑنے کی کوشش میں کامیاب تو نہیں کہیں آج کی ماں یعنی حقوق نسواں کو مدِ نظر رکھ کر مرد سے آگے تو نہیں جارہی دیکھا جائے تو آج ایسا دنیا میں کوئی شعبہ نہیں جہاں عورت موجود نہ ہو آج مغرب ھم پہ اتنا حاوی ہوگیا کے ہماری عورت بیچ سڑک نعرے لگانے میں زرا آڑ محسوس نہیں کرتی”میرا جسم میری مرضی”کیا آج کے خاندان سائبان ہمارے مذہبی رہن سہن کو اپنا رھے ہیں نہیں نہیں بلکل بھی نہیں بلکہ بچوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی وہ تبھی کے مغربی ممالک کی طرح جہاں 18سال کے بعد خود مختیاری دی جاتی ھے آجکی عورت مضبوط ہونے کا دعوہ تو کرتی ھے لیکن وہ مضبوطی کو بغیر شوہر کی اجازت اور اسلامی حدود کو نظر انداز کر کے اپنا رہی کیوں کے حقوق نسواں کے نام سے مغرب نے ھم میں اک پھوٹ ڈال دی چلیں عورت مظلوم ھے لیکن کچھ اسلامی حدود قیود بھی ہیں شوہر گھر بار بچے اور شاید وہ بچوں کی تربیت ویسی نہیں کر سکتیں جیسا کہ کرنی چاھیے اور بچے کل کو جوان ہو کر اگر ازدواجی ذندگی شروع کر دیں تو گھر میں آنے والی بہو ہو یا جانے والی بیٹی وہ اپنا خاندان ویسا نہیں چلا سکتی جیسا کے چلانا ہوتا ھے کیوں کے اسکی تربیت میں یہ چیز ہی شامل نہیں ہوتی کے اپنی تہذیب ثقافت کو کیسے مد نظر رکھنا چاہئے۔سب باتوں کے بعد ذہن دوڑائیں تو مغربی طرز معاشرت زہن میں گردش کرتا ھے کے ہمارے مظبوط خاندان میں پھوٹ ڈال رہا ھے اور خاندان سائبان کو اپنی زمہ داریوں سے دستبردار کر رہا ھے ہمارے معاشرے کو اس تعلیم کی ضرورت ھے کہ خدا را قرآن میں موجود طرز ذنگی کو اپنائیں جس کی عملی شکل ہمارے پیارے پیغمبرؐ نے دکھائی اور مغربی طرز معاشرت سے دور رہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button