کالمز

آٹیزم(autism)


*تحریر ردا طارق*
*شہر شاہجمال*
آٹیزم ایک ایسی بیماری ہے جو بچوں میں پائی جاتی ہے اس بیماری میں بچےاپنے ہم عمر بچوں سےاور اپنے والدین اور ٹیچرز سے بات چیت نہیں کر پاتے،جن میں یہ بیماری پائی جاتی ہےوه عام بچوں کی نسبت الگ طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ ایسے بچے گھر کی روزمرہ روٹین کے اتنے عادی ہوتے ہیں کہ ذرا سی ردو بدل ان کو پریشان کر دیتی ہے۔ جیسے کہ ہمارے ہاں بہت سی خواتین ایسی ہوتی ہیں جو زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزارتی ہیں اور مرد حضرات کاروباری سرگرمیوں یا پھر نوکری کے سلسلے میں گھر سے باہر رہتے ہیں۔اسی طرح اگر دونوں کی روٹین میں تبدیلی آجائے جیسے ماں گھر سے کہیں باہر چلی جاۓ یا پھر باپ کے گھر آنے میں تاخیر ہو جاۓ تو ایسے بچے خوف زدہ یاچڑچڑا پن دکھانا شروع کر دیتے ہیں کچھ بچے تو روکر،چیخ کر اس بات کا اظہار کرتے ہیں لیکن کچھ بالکل خاموشی اختیار کرکے الگ تھلگ رہنے لگتے ہیں جو کہ اکثر والدین نہیں سمجھ پاتے اور کہا جاتا ہے کہ بچہ بہت ضدی ہوگیا ہے۔ایک اور علامت جو ان میں پائی جاتی ہے یہ کہ اگر یہ بچے کھلونوں سے کھیلتے ہیں توایک ہی کھلونا ایسا ہوتا ہےجو ان کا پسندیدہ ہوتا ہے ایسے بچےایک ہی کھلونے سے کھیلنا پسند کرتے ہیں ۔آٹیزم کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ والدین بچوں کو مصروف رکھنے کیلئے ان کہ ہاتھ میں موبائل تهما دیتے ہیں ۔پھر بچے اس موبائل کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی ہو یا نہ ہوان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔وه والدین میں سے کسی کی بھی بات پر توجہ دیں یا نہ دیں لیکن فرض کریں اگر آپ موبائل پر کچھ بھی کوئی ویڈیو چلا کر کہیں چھپا کر رکھ دیں تو وه ڈھونڈ لیں گے۔ایسا بچہ والدین کی بات پر توجہ نہیں دیتا والدین سے بات نہیں کرتا جس پر انھیں یہ شکایت ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ بد تمیز ہوگیا ہے اور ہماری بات نہیں سنتا ۔اس کی اصل وجہ بدتمیزی نہیں بلکہ یہ بچوں میں پائی جانے والی ایک بیماری ہوتی ہے جسے آٹیزم کہتے ہیں اور جیسا کہ اس مرض کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے تو بچپن میں بچوں کا سرے سے علاج ہی نہیں ہوپاتا اور یہ مرض ان کے ساتھ ساتھ پلتا بڑھتا اور جوان ہوتا رہتا ہے اس طرح کئی نوجوان بھی اس بیماری سے دوچار رہتے ہیں اور کئی لوگوں کی ساری زندگی ہی اس مرض میں مبتلا رہ کر کٹ جاتی ہے۔ نہ خود انھیں آٹیزم کے حوالے سے کچھ آگاہی ہوتی ہے نہ ہی بچپن سے لےکر اب تک کوئی دوسرا اس بات پر توجہ دیتا ہے۔ویسے تو ماہر نفسیات کے پاس اس کا حل موجود ہوتا ہے پر میرے خیال میں اپنے بچے کو اس بیماری سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچے کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں۔ یہ نہ صرف آپ کی ذمہ داری ہے بلکہ یہ آپ کے بچے کا حق ہے اور اس کی اچھی تربیت کیلئے یہ بے حد ضروری ہے کہ اس پر خاص توجہ مركوز کی جاۓ۔چھوٹے بچوں کو موبائل،ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اتنی ہی اجازت دی جائے جتنا ان کیلئے ضروری ہے۔ایسے حالات سے نمٹنے کیلئے والدین کے پاس اس سے مطلق پہلے سے ہی آگاہی ہونا بہت ضروری ہے کیوں کہ اکثر گریجو یشن کے بعد لڑکیوں کی شادیاں کر دی جاتی ہیں تو اگر نصاب اور کالج یونیورسٹی میں ٹریننگ کے زریعے لڑکے اور لڑکیوں میں اس حوالے سے آگاہی موجود ہوگی تو وه آنے والی زندگی میں اپنے بچوں پر اس حوالے سے بہترین انداز سے توجہ دے سکتے ہیں۔ میں ویژن بائے کشف عبیر کے پلیٹ فارم کے توسط سے حکومت وقت سے اپیل کرتی ہوں کہ تمام گورنمنٹ،سیمی گورنمنٹ پرائیویٹ سکولوں،کالجوں اوریونیورسٹیوں میں اساتذه کے ساتھ ساتھ ماہر نفسیات بھی بھرتی کئے جائیں جو طلباوطالبات کے ساتھ ساتھ اساتذه کو بھی ایسے حالات سے ممکن حد تک نمٹنے کی ٹریننگ دیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button