نمائندگان کی خبریں

چوآ سیدن شاہ سوختہ لکڑی ڈپو ہولڈرز کا 8 کلومیٹر شق سے استثنیٰ کا مطالبہ



پرامن احتجاج، منتقلی ہوئی تو ہمارے سمیت کئی مزدور خاندانوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ سیکرٹری فاریسٹ، چیف کنزرویٹر راولپنڈی، ڈی ایف او چکوال، ڈی سی اور اے سی سے زمینی حقائق مدنظر رکھنے کی اپیل

چوآ سیدن شاہ (خاور شہزاد) چوآ سیدن شاہ کے سوختہ لکڑی ڈپو پرمٹ ہولڈرز نے سرکاری جنگلات کی حدود سے 8 کلومیٹر دور ڈپو منتقل کرنے سے متعلق مجوزہ شق کے خلاف پُرامن احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں سیکرٹری فاریسٹ، وائلڈ لائف اینڈ فشریز پنجاب، چیف کنزرویٹر فاریسٹ راولپنڈی، ڈی ایف او چکوال، ڈپٹی کمشنر چکوال، اسسٹنٹ کمشنر چوآ سیدن شاہ سمیت محکمہ جنگلات پنجاب کے اعلیٰ حکام و متعلقہ افسران سے اپیل کی ہے کہ چوآ سیدن شاہ کے مخصوص جغرافیائی، معاشی اور کاروباری حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ شق میں مناسب استثنیٰ یا قابلِ عمل متبادل فراہم کیا جائے۔ ڈپو ہولڈرز کے مطابق وہ 1985ء سے چوآ سیدن شاہ میں اس کاروبار سے وابستہ ہیں اور ان کے ڈپو میونسپل کمیٹی کی حدود میں قائم ہیں، جبکہ مائننگ ایریا میں استعمال ہونے والی سفیدہ کی لکڑی وہ میانوالی، خوشاب، سرگودھا اور دیگر علاقوں سے خرید کر لاتے ہیں اور مائنز کی طلب کے مطابق اسے مطلوبہ سائز میں تیار کرکے فراہم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چوآ سیدن شاہ کے سرکاری جنگلات میں بنیادی طور پر کہو اور پھلاہی کے درخت پائے جاتے ہیں، جنہیں وہ نہ خریدتے ہیں اور نہ فروخت کرتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق ڈپو کا کاروباری نظام سرکاری جنگلات سے لکڑی کے حصول پر مبنی نہیں۔ ڈپو ہولڈرز نے مؤقف اختیار کیا کہ تحصیل کا بیشتر رقبہ پہاڑی ہے اور شہر سمیت متعدد آبادیاں سرکاری جنگلات سے متصل ہیں، اس لیے تمام ڈپو کو یکساں طور پر 8 کلومیٹر دور منتقل کرنے کی صورت میں انہیں شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ہمارے کاروبار کا نہیں بلکہ ہمارے بیوی بچوں کی روزی روٹی کا سوال ہے، اگر ڈپو منتقل ہوئے تو ہمارے ساتھ وابستہ کئی مزدوروں اور ان کے خاندانوں کے گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا قانونی تقاضوں، زمینی حقائق اور ڈپو ہولڈرز کے موجودہ کاروباری نظام کی روشنی میں جائزہ لیا جائے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے میونسپل حدود چوآ سیدن شاہ میں قائم ڈپو ہولڈرز کے لیے مناسب استثنیٰ یا کوئی قابلِ عمل حل نکالا جائے۔ ڈپو ہولڈرز نے مزید بتایا کہ مذکورہ معاملے کے حوالے سے وہ عدالت سے حکمِ امتناع  بھی حاصل کرچکے ہیں، جبکہ اپنے مطالبات اور استثنیٰ کی درخواست سے متعلق سیکرٹری فاریسٹ پنجاب کو تحریری درخواست بھی پیش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ محکمہ جنگلات کے تمام قانونی تقاضوں اور ضوابط کی پابندی کے لیے تیار ہیں اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ عدالتی معاملے اور ان کی تحریری درخواست سمیت تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لے کر ان کے روزگار اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کے دائرے میں قابلِ عمل حل نکالا جائے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button