نمائندگان کی خبریں

کندھ کوٹ مبینہ کاروکاری کے الزام پر خاتون قتل ورثاء کا لاش اور قرآن پاک اٹھا کر ایس ایس پی آفس کے سامنے احتجاج



مقتولہ کے ورثاء کا مبینہ قاتل کی فوری گرفتاری اور مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ ایس ایچ او رسالدار کی یقین دہانی پر احتجاج ختم

کندھ کوٹ ( سید رشید احمد شاہ)کندھ کوٹ میں خواتین کے تحفظ اور مبینہ کاروکاری کے نام پر تشدد کے واقعات کے حوالے سے ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں تھانہ رسالدار کی حدود میں واقع گاؤں قدر حسین گولاٹو میں مبینہ کاروکاری کے الزام کے تحت ایک خاتون کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا واقعے کے بعد مقتولہ کے ورثاء میں شدید غم و غصہ پھیل گیا جنہوں نے انصاف کے حصول کے لیے خاتون کی لاش اور قرآن پاک اٹھا کر ایس ایس پی کشمور کے دفتر کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دے دیا تفصیلات کے مطابق تھانہ رسالدار کی حدود میں واقع گاؤں قدر حسین گولاٹو میں نجمہ دختر نگر زوجہ الطاف گولاٹو ولد عطا محمد گولاٹو کو مبینہ طور پر کاروکاری کے الزام کے تحت فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا واقعے کی اطلاع ملنے پر مقتولہ کے ورثاء اور اہل خانہ میں کہرام مچ گیا جبکہ واقعے نے علاقے میں تشویش کی فضا پیدا کردی مقتولہ کے ورثاء جن میں خواتین بھی شامل تھیں انصاف کے حصول کے لیے خاتون کی لاش لے کر ایس ایس پی کشمور کے دفتر پہنچ گئے ورثاء نے لاش اور قرآن پاک اٹھا کر دفتر کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاج کیا اور دھرنا دے کر متعلقہ پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مبینہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے
احتجاج میں شریک ورثاء کا مطالبہ تھا کہ مبینہ طور پر قتل میں ملوث الطاف گولاٹو کو فوری گرفتار کیا جائے واقعے کا مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے قتل کے محرکات سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ایس ایچ او رسالدار کی مظاہرین سے مذاکرات
ایس ایس پی آفس کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاج اور دھرنے کے دوران ایس ایچ او تھانہ رسالدار صدام حسین کھوسو مظاہرین کے پاس پہنچے اور ان سے مذاکرات کیے اس موقع پر انہوں نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث مبینہ ملزم کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گےایس ایچ او صدام حسین کھوسو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی کشمور کی واضح ہدایات ہیں کہ کسی بھی قاتل یا جرائم پیشہ شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہا کہ پولیس واقعے کے حوالے سے قانونی تقاضوں کے مطابق اقدامات کرے گی
پولیس افسر کی یقین دہانی کے بعد مقتولہ کے ورثاء نے اپنا احتجاج ختم کردیا اور خاتون کی لاش اپنے ہمراہ لے کر روانہ ہوگئے مبینہ کاروکاری کے واقعات پر مؤثر کارروائی کا مطالبہ واقعے کے بعد علاقے میں یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ مبینہ کاروکاری کے الزام کی بنیاد پر پیش آنے والے ایسے واقعات کی روک تھام اور خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کس حد تک یقینی بنائے جارہے ہیں۔ کسی بھی شخص پر الزام عائد ہونا بذات خود کسی کو قتل کرنے یا قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا جواز فراہم نہیں کرتا، جبکہ ایسے معاملات میں پولیس اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائیں اور قانون کے مطابق کارروائی کریں مقتولہ کے ورثاء نے احتجاج کے دوران مبینہ ملزم کی گرفتاری مقدمے کے اندراج اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں قتل کے محرکات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے پولیس کی تفتیش اور قانونی کارروائی اہم ہوگی واضح رہے کہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق پولیس کی جانب سے مبینہ ملزم کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے بعد ورثاء نے احتجاج ختم کردیا واقعے میں گرفتاری مقدمے کے اندراج اور تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر ہی قانونی کارروائی کی صورتِ حال واضح ہوسکے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button