اہم خبریں

عامل صحافیوں کی جبری برطرفی کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان، مسائل کے حل کے لیے ہیلپ ڈیسک اور دو کمیٹیاں قائم


عامل صحافیوں کو کسی صورت بے یارو مددگار نہیں چھوڑیں گے، جبری برطرفی اور روزگار پر حملے کے خلاف بھرپور مزاحمت ہوگی: قائم مقام صدر فیصل اعوان

کسی ایک صحافی کو بھی بلاجواز برطرف کیا گیا تو میڈیا ہاؤسز کے باہر احتجاجی کیمپ اور دھرنے دیں گے، صحافیوں کے معاشی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: سیکرٹری جنرل  شکیل احمد


صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد میں پی ایف یو جے ہر محاذ پر آر آئی یو جے کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ملکی و بین الاقوامی سطح پر بھرپور حمایت جاری رہے گی: سیکرٹری جنرل شکیل احمد

صحافیوں کے حقوق کی جنگ میں آر آئی یو جے صفِ اول میں، پارلیمنٹ سے بین الاقوامی فورمز تک صحافیوں کی آواز مؤثر انداز میں اٹھائی جائے گی: نائب صدر  قیصر مرزا


نیشنل پریس کلب انتخابات میں کامیابی صحافی برادری کے اعتماد کا اظہار، اس اعتماد کو عملی جدوجہد کے ذریعے مزید مضبوط بنائیں گے: جنرل سیکرٹری رضوان غلیزئی

صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے تنظیمی اتحاد اور باقاعدہ رابطہ کاری ضروری، ہر معاملے کو متعلقہ اداروں تک پہنچا کر مؤثر پیروی کی جائے گی: جوائنٹ سیکرٹری عبدالوحید جنجوعہ

صحافیوں کے مسائل صرف احتجاج تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، مسئلے کے حل تک مسلسل فالو اَپ اور مؤثر رابطہ کاری ضروری ہے: جوائنٹ سیکرٹری خالد ملک

آزادی اظہار پر پابندیاں، بیروزگاری اور جبری برطرفیاں صحافی برادری کے لیے سنگین چیلنج، جدید دور کے تقاضوں کے مطابق صحافیوں کی تربیت ناگزیر ہے: جوائنٹ سیکرٹری  عائشہ ناز

جدید صحافت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے صحافیوں کو ڈیجیٹل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دینا ناگزیر ہے: سیکرٹری اطلاعات مدثر الیاس کیانی

صحافیوں کے حقوق، آزادی صحافت اور معاشی مسائل کے حل کے لیے تنظیمی اتحاد اور مشترکہ جدوجہد مزید مضبوط بنانا ہوگی: سینئر صحافی

پاکستانی صحافیوں کی بین الاقوامی سطح پر مؤثر نمائندگی اہم پیش رفت، صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رہے گی: سینئر صحافی


اسلام آباد (پ۔ر) سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شکیل احمد،اور قائم مقام صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس فیصل اعوان کی سربراہی میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کا توسیعی اجلاس منعقد ہوا، جس میں جڑواں شہروں کے عامل صحافیوں کو درپیش مسائل، صحافیوں کی جبری برطرفیوں، بیروزگاری، جرنلسٹ کوٹہ کے تحت پلاٹس، میڈیا ٹاؤن فیز ٹو، ممبرشپ مہم، صحافیوں کی تربیت اور آزادی اظہار رائے سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اجلاس میں قائم مقام صدر فیصل اعوان نے کہا کہ عامل صحافیوں کو کسی صورت بے یارو مددگار نہیں چھوڑیں گے۔ بہت ہو چکا، اب اگر کسی ایک بھی صحافی کو بلاجواز بیروزگار کیا گیا یا جبری طور پر برطرف کیا گیا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ میڈیا ہاؤسز کے باہر احتجاجی کیمپ اور دھرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے معاشی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔فیصل اعوان نے کہا کہ بیروزگار ہونے والے صحافیوں کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا، جدید صحافتی ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ روزگار کے نئے مواقع حاصل کر سکیں۔ صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اس حوالے سے عملی اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد کے صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سینئر صحافیوں پر مشتمل دو سات رکنی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ یہ کمیٹیاں صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ سرکاری محکموں، اتھارٹیز اور اداروں کے سربراہان سے رابطہ کریں گی اور مسائل کے حل کے لیے مؤثر انداز میں پیروی کریں گی۔قائم مقام صدر نے مزید کہا کہ صحافیوں کی شکایات اور مسائل کے فوری ازالے کے لیے ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا جا رہا ہے، جہاں صحافی اپنے مسائل اور شکایات درج کرا سکیں گے اور ان کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کیا جائے گا۔سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شکیل احمد نے کہا کہ جڑواں شہروں کے صحافیوں کے حقوق کی پاسبانی کے لیے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نہ صرف صف اول میں ہے بلکہ صحافیوں کے مسائل اور حقوق کے حوالے سے ایک مؤثر اور توانا آواز بھی ہے۔ صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد میں جہاں بھی راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کو ضرورت ہوگی، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔شکیل احمد نے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس میں شمولیت اختیار کرنے والے نئے ممبران رانا اقبال سکندر، میڈم فرین اور سیدہ خالدہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ نئے ساتھیوں کی شمولیت سے تنظیم مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے ممبران صحافی برادری کے حقوق اور تنظیمی معاملات میں بھرپور کردار ادا کریں گے اور یونین کی اجتماعی جدوجہد کو مزید مؤثر بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔شکیل احمد نے ویڈیو جرنلسٹس کے صدر منتخب ہونے پر طارق رانا کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو جرنلسٹس بھی صحافت کا اہم حصہ ہیں اور ان کے مسائل اور حقوق کے تحفظ کے لیے دونوں تنظیمیں ان کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ صحافی برادری کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور کسی بھی سطح پر صحافیوں کے درمیان تفریق یا رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔شکیل احمد نے کہا کہ جرنلسٹ کوٹہ کے تحت پلاٹس کے معاملے میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سکروٹنی کا عمل جاری ہے۔ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے اپنی چھت کے خواب کے منتظر عامل صحافیوں کے لیے جرنلسٹ کوٹہ کے تحت پلاٹس کی فہرست کو سکروٹنی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ شفاف بنایا جا رہا ہے تاکہ کوئی حقدار صحافی اپنے جائز حق سے محروم نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ جڑواں شہروں کے صحافیوں کو میڈیا ٹاؤن فیز ٹو کے حوالے سے بھی جلد خوشخبری سنائی جائے گی۔ شکیل احمد نے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی جاری ممبرشپ مہم کو مزید تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں صحافی برادری، بالخصوص نوجوان صحافی، بھرپور شرکت کریں اور جمہوری انداز میں اپنی قیادت کا انتخاب کریں۔
نائب صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس قیصر مرزا نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس ایک مؤثر اور بھرپور آواز ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کی، جس میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی صدر نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور صحافیوں کے حقوق کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔ممبر ایف ای سی اسحاق چوہدری نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج ہو یا صحافیوں کی برطرفیوں کے خلاف جدوجہد، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے ہمیشہ اپنی توانا آواز بلند کی اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ممبر ایف ای سی عادل شاہ نے کہا کہ قلم، کیمرے اور مائیک کے ذریعے معاشرے کے مختلف طبقات کے حقوق کے لیے میدان عمل میں آنے والے صحافیوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ دونوں تنظیموں نے ملکی سطح کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کے حق کا مقدمہ مؤثر انداز میں لڑا ہے۔جنرل سیکرٹری راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس رضوان غلیزئی نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے صحافیوں کے حقوق کے لیے جاندار آواز اٹھانے کے باعث جڑواں شہروں کے صحافیوں نے کئی سال بعد نیشنل پریس کلب کے انتخابات میں ہمارے پینل کے امیدواروں کو شاندار کامیابی دلائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صحافی برادری کے اعتماد کا اظہار ہے اور اس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے مزید متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔سینئر جوائنٹ سیکرٹری عبدالوحید جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی طرح راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس بھی صحافی برادری کے حقوق کے لیے بلاامتیاز جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے نئے ممبران کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یونین کے اجلاس باقاعدگی سے ہونے چاہئیں تاکہ صحافیوں کے درمیان رابطے مؤثر ہوں اور مشکلات میں گھری صحافتی برادری کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کرنے میں مدد ملے۔
جوائنٹ سیکرٹری راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس خالد ملک نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تنظیمی اتحاد، مؤثر رابطہ کاری اور مسلسل فالو اَپ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ صحافیوں کے مسائل صرف احتجاج تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ ہر معاملے کو متعلقہ اداروں، میڈیا ہاؤسز اور حکام کے سامنے باقاعدہ طور پر اٹھا کر اس کے حل تک مؤثر پیروی کی جانی چاہیے۔خالد ملک نے کہا کہ بالخصوص نوجوان اور بیروزگار صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل جرنلزم، جدید میڈیا ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ صحافی بدلتے ہوئے میڈیا لینڈ اسکیپ میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے روزگار کے نئے راستے پیدا کر سکیں۔
سیکرٹری اطلاعات راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس مدثر الیاس کیانی نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس صحافیوں کے بنیادی، پیشہ ورانہ اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک منظم اور مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صحافت کا روایتی ماڈل تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا، ویڈیو جرنلزم، موبائل جرنلزم، ڈیٹا جرنلزم اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز صحافت کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں صحافیوں کو صرف روایتی رپورٹنگ تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں جدید ڈیجیٹل اسکلز سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے۔مدثر الیاس کیانی نے کہا کہ صحافیوں کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے باقاعدہ اسکل بیسڈ ٹریننگ پروگرامز، ڈیجیٹل میڈیا ورکشاپس، موبائل جرنلزم، ویڈیو ایڈیٹنگ، سوشل میڈیا مینجمنٹ، سرچ انجن آپٹیمائزیشن، ڈیجیٹل پبلشنگ، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور فری لانسنگ جیسے شعبوں میں تربیتی مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں۔ اس مقصد کے لیے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور متعلقہ تربیتی اداروں کے درمیان باقاعدہ رابطہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیروزگار اور جبری برطرفی کا شکار صحافیوں کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں، بلکہ انہیں ری اسکلنگ اور اپ اسکلنگ کے ذریعے موجودہ میڈیا مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہوگا تاکہ وہ روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز اور فری لانس مارکیٹ میں بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹیاں اور ہیلپ ڈیسک شکایات کے اندراج، متعلقہ اداروں سے رابطہ، فالو اَپ اور مسئلے کے حل تک پیش رفت کو منظم انداز میں آگے بڑھائیں گے۔
مدثر الیاس کیانی نے کہا کہ صحافیوں کے جائز حقوق، خصوصاً جرنلسٹ کوٹہ کے تحت پلاٹس، روزگار کے تحفظ، جبری برطرفیوں کی روک تھام، پیشہ ورانہ تربیت اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس آئندہ بھی صحافی برادری کی آواز متعلقہ فورمز تک مؤثر انداز میں پہنچاتی رہے گی اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے عملی، قانونی اور تنظیمی سطح پر ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔جوائنٹ سیکرٹری عائشہ ناز نے کہا کہ صحافی برادری کو آزادی اظہار رائے پر پابندیوں، بیروزگاری، اچانک اور جبری برطرفیوں سمیت روزگار کے مواقع میں مسلسل کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں صحافیوں کی استعدادِ کار میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اضافہ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے تعاون سے صحافیوں کی تربیت کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع تلاش کرنے چاہئیں تاکہ صحافی جدید میڈیا ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا سکیں اور روزگار کے نئے مواقع حاصل کر سکیں۔سینئر صحافی طارق مسعود نے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی صحافیوں کے مسائل اجاگر کرنے پر سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شکیل احمد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب بین الاقوامی صحافتی اداروں میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم آج بین الاقوامی صحافتی تنظیموں میں پاکستانی صحافیوں کی مؤثر نمائندگی ایک اہم پیش رفت ہے، جس میں شکیل احمد کی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔سینئر صحافی مظہر طفیل نے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافی برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تنظیمی اتحاد اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے ہمیشہ صحافیوں کے حقوق اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے معاشی اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد کو مزید منظم اور مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سینئر صحافی ابوبکر مشتاق نے کہا کہ جس طرح راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے گزشتہ چند برسوں کے دوران جڑواں شہروں سمیت ملک بھر کے صحافیوں کے حقوق کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے، اسی جدوجہد کو مدنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی اسلام آباد کے صحافیوں نے نیشنل پریس کلب کے انتخابات میں ہمارے پینل کے امیدواروں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب پہلے سے زیادہ متحرک ہونے کی ضرورت ہے تاکہ صحافیوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر اور حل کرایا جا سکے۔سینئر صحافی راشد حبیب نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس صحافیوں کے حقوق کا مورچہ ہیں۔ جب تک یہ تنظیمیں میدان عمل میں موجود ہیں، صحافیوں کے حقوق، آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔اجلاس کے دوران جڑواں شہروں سے شرکت کرنے والے عامل صحافیوں نے بھی اپنے درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ مختلف صحافیوں نے بیروزگاری، جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ملازمت کے غیر یقینی حالات، پیشہ ورانہ مشکلات اور دیگر مسائل کی نشاندہی کی۔ شرکاء نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ ان مسائل کے حل کے لیے متعلقہ میڈیا ہاؤسز، سرکاری اداروں اور دیگر متعلقہ فورمز پر مؤثر انداز میں آواز اٹھائی جائے۔ اس موقع پر قیادت کی جانب سے عامل صحافیوں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن قانونی، تنظیمی اور عملی تعاون فراہم کیا جائے گا۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافیوں کو درپیش معاشی، پیشہ ورانہ اور تنظیمی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور کسی بھی صحافی کے ساتھ ناانصافی، جبری برطرفی یا حقوق کی پامالی کی صورت میں متعلقہ فورمز پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔اجلاس میں شکیل احمد، قیصر مرزا، اسحاق چوہدری، طارق مسعود، ابوبکر مشتاق، راشد حبیب، مظہر طفیل، رضوان غلیزئی، مدثر الیاس کیانی، عبدالوحید جنجوعہ، خالد ملک، طارق رانا، عادل شاہ، عائشہ ناز، فرین، سیدہ خالدہ، محمود چوہدری، یاسر زبیری، محمد فیصل ندیم، اعجاز ساگر، مدثر داؤد، ملک جنید، رانا طارق، رجب علی، محمد فیاض چوہدری، ابرار احمد، اسد تنولی، اسرار شاہ اور دیگر ایگزیکٹو ممبران سمیت جڑواں شہروں کے عامل صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button