اہم خبریں

بی آئی ایس پی کی فراڈ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی



بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے مستحقین سے غیر قانونی طور پر رقم وصول کرنے اور ڈیجیٹل والیٹ اکاؤنٹس کی سموں کے عوض پیسے لینے کی شکایات پر فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ عوام کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات میں بتایا گیا کہ بعض ریٹیلرز رجسٹرڈ مستحقین سے ڈیجیٹل والیٹ اکاؤنٹ کی سمز کے نام پر ناجائز رقم وصول کر رہے ہیں، جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ غریب اور مستحق خاندانوں کے حقوق پر بھی ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

شکایات موصول ہوتے ہی بی آئی ایس پی اسلام آباد ہیڈ آفس کی مانیٹرنگ ٹیم  نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ ریٹیلرز کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا اور متاثرہ مستحقین کو اپنی نگرانی میں تمام ضروری مراحل سے گزارنا شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق کسی بھی مستحق فرد سے رجسٹریشن، تصدیق، ادائیگی یا ڈیجیٹل والیٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے اضافی رقم وصول کرنا غیر قانونی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

بی آئی ایس پی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مستحقین کو تمام سہولیات شفاف، محفوظ اور بلا معاوضہ فراہم کرنا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے راجن پور کی تینوں تحصیلوں میں بی آئی ایس پی کے دفاتر قائم ہیں تاکہ مستحقین کو تمام خدمات ایک ہی جگہ پر آسانی سے دستیاب ہوں اور ادائیگیوں، رجسٹریشن، بائیومیٹرک تصدیق اور دیگر مراحل میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔ ان دفاتر کے قیام سے عوام کو ریٹیلرز پر غیر ضروری انحصار سے بھی نجات ملے گی اور شکایات کے فوری ازالے میں مدد ملے گی۔

بی آئی ایس پی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی شخص یا ریٹیلر کسی بھی قسم کی فیس، کمیشن یا اضافی رقم کا مطالبہ کرے تو فوری طور پر متعلقہ بی آئی ایس پی دفتر یا متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کا تعاون اس مہم کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم ہے اور ہر شکایت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

بی آئی ایس پی حکام کے مطابق ضلع راجن پور میں اس وقت  تقریباً ایک لاکھ 51 ہزار گھرانے پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں، جنہیں حکومتی مالی معاونت باقاعدگی سے فراہم کی جا رہی ہے۔ ادارے کا عزم ہے کہ تمام مستحقین کو ان کا حق بغیر کسی کٹوتی اور مکمل شفافیت کے ساتھ فراہم کیا جائے اور ایسے تمام عناصر کا خاتمہ کیا جائے جو مستحق خاندانوں کا استحصال کر رہے ہیں۔

حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی آئی ایس پی ایک عوام دوست اور شفاف ادارے کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا، جبکہ فراڈ، بدعنوانی اور مستحقین کے استحصال میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت ترین اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے اور حکومتی فلاحی پروگراموں کے ثمرات حقیقی حق داروں تک بلا رکاوٹ پہنچ سکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button