ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی پوسٹ مارٹم میں تاخیر لواحقین کا شدید احتجاج

جی ٹی روڈ پر واقع ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ سمیت اہم سیٹیں عرصہ دراز سے خالی منتخب نمائندوں کی مجرمانہ خاموشی پر عوامی حلقوں کا اظہارِ تشویش
محکمہ صحت کی نااہلی و غفلت عروج پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب سیکرٹری صحت سے گوجرخان ہسپتال میں طبی عملے کی کمی فوری پوری کرنے کا مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان میں ڈاکٹرز کمی ایک بار پھر سنگین مسئلے کے طور پر سامنے آئی، جب نواحی علاقے میں بھائی کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والے شخص کی میت کا پوسٹ مارٹم بروز اتوار متعلقہ آن کال ڈاکٹر کی عدم موجودگی کے باعث تقریباً چار گھنٹے تاخیر کا شکار رہا۔ طویل انتظار پر لواحقین اور اہلِ علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے محکمہ صحت کی ناقص منصوبہ بندی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ اطلاع ملنے پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹی ایچ کیو ہسپتال موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو بتایا کہ اتوار کے باعث ایمرجنسی میں صرف دو ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھے، جبکہ میڈیکل لیگل اور پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر آن کال تھا جس نے راولپنڈی سے آنا ہے اسکی اپنی بیٹی راولپنڈی میں زیرِ علاج ہے، تاہم ڈاکٹر کو فوری طور پر طلب کیا گیا۔ بعدازاں متعلقہ ڈاکٹر ہسپتال پہنچے، تاخیر پر افسوس کا اظہار کیا اور پوسٹ مارٹم مکمل کر دیا۔ تاہم ایم ایس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ہسپتال کو ڈاکٹروں کی شدید کمی کا سامنا ہے، جسکی وجہ تاخیر ہوئی اور کوئی متبادل ڈاکٹر بھی نہیں ہے، سماجی و عوامی حلقوں نے واقعے کو محکمہ صحت کی غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جی ٹی روڈ پر واقع اس اہم سرکاری ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ سمیت متعدد اہم اسامیاں عرصہ دراز سے خالی ہیں، جبکہ منتخب عوامی نمائندے بھی اس بنیادی مسئلے پر مؤثر آواز اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیرِ صحت اور سیکرٹری صحت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان میں ڈاکٹروں، ریڈیالوجسٹ اور دیگر طبی عملے کی تمام خالی آسامیوں کو ہنگامی بنیادوں پر پُر کیا جائے تاکہ آئندہ شہریوں کو طبی اور قانونی خدمات کے حصول میں ایسی تکلیف دہ تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔



