اہم خبریں

بینظیرانکم سپورٹ پروگرام،ڈبلیو ایف پی، ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کے مابین شراکت داری میں تین سال کی توسیع

پاکستان میں مزید 33 لاکھ خواتین اور بچوں کو غذائی قلت سے تحفظ فراہم کیا جائے گا

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (WFP)، اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (UNICEF) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے اشتراک سے بینظیر نشوونما پروگرام میں مزید تین سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ اس توسیع کے تحت پاکستان بھر میں مزید 33 لاکھ حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کو غذائی قلت سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
بینظیر نشوونما پروگرام، جو بی آئی ایس پی کا ایک اہم پروگرام ہے، ملک بھر میں قائم 578 سہولت مراکز اور 224 نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز کے ذریعے حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کو غذائیت اور صحت سے متعلق خدمات فراہم کر رہا ہے۔ 2020 میں اپنے آغاز سے اب تک اس پروگرام سے 47 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں جبکہ اس توسیع کے بعد مستفید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 80 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
*اس موقع پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا، “بینظیر نشوونما پروگرام اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جب سماجی تحفظ کو معیاری غذائیت، صحت کی سہولیات اور مضبوط شراکت داری کے ساتھ منسلک کیا جائے تو ماؤں اور بچوں کی زندگیوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ بینظیر نشوونما پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے اس وژن کا تسلسل ہے، جس کے تحت وہ ایک ایسے پاکستان کی خواہاں تھیں جہاں غربت کسی بھی ماں یا بچے کو بہتر زندگی کے حق سے محروم نہ کر سکے۔ مجھے اس عظیم وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر ہے۔ آج بینظیر نشوونما پروگرام کے تیسرے مرحلے (BNP 3.0) کے معاہدے پر دستخط محض ایک پروگرام کی توسیع نہیں بلکہ اس قومی عزم کی تجدید ہے کہ پاکستان کے ہر بچے کو صحت مند زندگی کا بہترین آغاز اور ہر ماں کو اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ ہم اپنے ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے اس پروگرام کی رسائی اور اثرات کو مزید وسعت دیتے رہیں گے تاکہ کوئی بھی مستحق خاتون یا بچہ اس سہولت سے محروم نہ رہے۔*”
اس شراکت داری کا مقصد ایک ایسے سائنسی بنیادوں پر قائم پروگرام کو مزید مضبوط بنانا ہے جس نے غذائیت کے شعبے میں عالمی سطح پر غیر معمولی نتائج حاصل کیے ہیں۔ اس پروگرام میں شامل بچوں میں چھ ماہ کی عمر تک  Stuntingکا خطرہ 22 فیصد کم پایا گیا۔
پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر ہر دس میں سے چار بچے دائمی غذائی قلت کا شکار ہیں، جن کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ شدید غذائی قلت (Wasting) کی شرح 17.7 فیصد ہے، جو تقریباً 50 لاکھ بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس مسئلے کے باعث پاکستان کو ہر سال تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بینظیر نشوونما پروگرام غذائیت سے متعلق خدمات کو پاکستان کے قومی سماجی تحفظ کے نظام کا حصہ بنا کر ان چیلنجز سے نمٹ رہا ہے۔ اس پروگرام سے حاصل ہونے والے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماؤں کی غذائی حالت میں بہتری، بچوں کی بقا کی شرح میں اضافہ، حمل کے دوران طبی معائنوں (Antenatal Care) میں اضافہ، حمل کے دوران صحت مند وزن اور بچوں کی پیدائش کے بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
پاکستان میں ڈبلیو ایف پی کی نمائندہ اور کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام نے بچوں میں غذائی قلت کی روک تھام کے حوالے سے انتہائی حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین سالہ توسیع کے ذریعے ڈبلیو ایف پی حکومتِ پاکستان اور بی آئی ایس پی کے ساتھ مل کر مزید ماؤں اور بچوں تک غذائیت سے متعلق ضروری خدمات پہنچانے اور اب تک حاصل ہونے والے مثبت نتائج کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔
پاکستان میں یونیسیف کی نائب نمائندہ شرمیلہ رسول نے حکومتِ پاکستان کی قیادت اور بینظیر نشوونما پروگرام کے ذریعے غذائیت پر مبنی سماجی تحفظ کو فروغ دینے کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیسیف، ڈبلیو ایف پی اور ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر کمزور ماؤں، نوعمر لڑکیوں اور بچوں کی غذائی حالت بہتر بنانے کے لیے حکومت کی معاونت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری غذائیت سے متعلق مؤثر خدمات تک مساوی رسائی بڑھانے، نظام کو مزید مضبوط بنانے اور کمیونٹیز میں ضروری نگہداشت سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق غذائیت میں سرمایہ کاری درحقیقت پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، تاکہ ہر بچے کو زندہ رہنے، بہتر نشوونما پانے اور اپنی مکمل صلاحیتوں تک پہنچنے کا موقع مل سکے۔
پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ ڈاکٹر لوو داپینگ نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام کے مثبت نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حکومت کے مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر تعاون اور سائنسی بنیادوں پر قائم مربوط حکمت عملی صحت، غذائیت، سماجی تحفظ، پانی و صفائی، خوراک کے نظام اور تعلیم کے شعبوں میں مؤثر نتائج دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت پاکستان اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہر بچے اور ہر ماں کے تحفظ کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔
اس شراکت داری کے تحت حکومتِ پاکستان، بی آئی ایس پی، یونیسیف، ڈبلیو ایف پی اور عالمی ادارہ صحت ملک بھر میں غذائیت اور صحت کی خدمات کو مزید مضبوط بنانے، کمزور خواتین اور بچوں کو غذائی قلت سے تحفظ فراہم کرنے اور پاکستان کے لیے ایک صحت مند اور مضبوط مستقبل کی تعمیر کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button