اہم خبریں

ایف ایف سی اور یارا کا اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان؛ سونا اور یارا برانڈز پاکستان میں جدید کراپ نیوٹریشن سلوشنز فراہم کرنے کے لیے یکجا

زرعی ترقی کے لیے بائیولوجیکل  فولئیر کھادوں پر مشتمل  جدید پورٹ فولیو
فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (FFC)، جو معیاری کھادوں کی تیاری، ترسیل اور جدید زرعی رہنمائی کی بدولت پاکستان کی صفِ اول کی فرٹیلائزر کمپنی ہے، نے عالمی شہرت یافتہ ادارے یارا انٹرنیشنل      اے  ایس  اے   کے ساتھ   اشتراک کے ذریعے زرعی جدت کے سفر میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔  1905 میں ناروے میں قائم ہونے والی  کمپنی یارا انٹرنیشنل دنیا کے 140 سے زائد ممالک میں  فصلوں  کے  لئے غذائیت اور پودوں کی نشوونما کے لئےمؤثر حل فراہم کر رہی  ہے۔  یہ اشتراک ایف ایف سی کے 48 سالہ اعتماد، وسیع ملک گیر مارکیٹنگ نیٹ ورک اور پاکستانی زراعت کی گہری سمجھ بوجھ کو یارا کی 120 سے زائد سالہ عالمی تحقیق، کراپ نیوٹریشن میں مہارت، زرعی تکنیکی تجربے اور جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ یکجا کرتا ہے، تاکہ پاکستانی کسانوں کو عالمی معیار کی  بائیولوجیکل       اور اسپیشلٹی پلانٹ نیوٹریشن سلوشنز فراہم کیے جا سکیں۔ ایف ایف سی اور یارا انٹرنیشنل کے درمیان اسٹریٹجک اشتراک کے تحت، سونا اور یارا برانڈز نے پاکستان میں جدید  بائیولوجیکل    اور اسپیشلٹی پلانٹ نیوٹریشن مصنوعات کا ایک پریمیئم پورٹ فولیو متعارف کرانے کے لیے مشترکہ برانڈ شراکت داری قائم کی ہے۔ اس پورٹ فولیو میں پانچ فولیئر بایولوجیکل    فولئیر مصنوعات   یارا ایمپلکس اوپٹی ٹریک™، یاراویٹا  کراپ بوسٹ™، یاراویٹا  بورٹریک™، یاراویٹا  فروٹرل™ اور یاراویٹا سولیٹرل™ کے ساتھ  انتہائی حل پذیر کیلشیم کھاد یارا لیوا ٹراپی کوٹ™ بھی شامل ہے۔ ان مصنوعات کے پورٹ فولیو کی باضابطہ تقریبِ رونمائی سونا ٹاور، ایف ایف سی ہیڈ آفس، راولپنڈی میں ایف ایف سی اور یارا انٹرنیشنل کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی دباؤ نے پاکستان کی زرعی پیداوار اور قومی غذائی تحفظ کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ انہی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایف ایف سی اور یارا انٹرنیشنل نے پاکستان کے زرعی حالات، مختلف فصلوں، موسمی تقاضوں اور زمینی خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اعلیٰ معیار کی خصوصی کھادیں   اور بائیو سٹیمولنٹس متعارف کروائی ہیں۔ جدید فارمولیشنز پر مشتمل یہ کھادیں مارکیٹ میں دستیاب دیگر  کھادوں سے منفرد ہیں، جو غذائی اجزاء کی مؤثر فراہمی، پتوں کے ذریعے بہتر جذب اور فصل کی حساس نشوونما کے مراحل میں بہترین کارکردگی کو یقینی بناتی ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب محمد علی جنجوعہ، چیف کمرشل آفیسر، ایف ایف سی نے ایف ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب جہانگیر پراچہ اور یارا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب سوین تورے ہولسیتر کی قیادت کو سراہا، جن کی رہنمائی کے باعث یہ تاریخی دن ممکن ہوا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایف ایف سی ہمیشہ جدید زرعی ٹیکنالوجیز اور مؤثر فصلی غذائیت کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کرتی رہی ہے تاکہ کاشتکار کم لاگت میں بہتر پیداوار اور زیادہ منافع حاصل کر سکیں۔ یارا انٹرنیشنل کے ساتھ یہ اشتراک پاکستان میں فصلات  کے  لئے  عالمی معیار کے غذائی حل متعارف کروانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جسے جامع تکنیکی جائزے اور مقامی زرعی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے بعد اختیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایف ایف سی مستقبل میں بھی جدید زرعی ٹیکنالوجیز اور مؤثر کھادیں متعارف کروانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔ یہ خصوصی کھادیں فصلوں کی پیداوار، معیار اور کاشتکاروں کی آمدن میں اضافے کے ساتھ قومی غذائی تحفظ کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان مصنوعات کی مارکیٹنگ NexGen Nutrientsکے تحت ایف ایف سی کے ملک گیر مارکیٹنگ اور زرعی مشاورتی نیٹ ورک کے ذریعے کی جائے گی تاکہ ملک بھر کے کاشتکار عالمی معیار کی جدید فصلی غذائیت سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔ جناب ا الیگزینڈر  ماسیڈو، سینئر وائس پریزیڈنٹ، بزنس یونٹ افریقہ، یارا افریقہ اینڈ ایشیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس شراکت داری کی بنیاد دنیا بھر میں منعقد ہونے والی مختلف عالمی فرٹیلائزر کانفرنسوں کے دوران دونوں اداروں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی ملاقاتوں سے آغاز ہوئی۔ پاکستان میں سائنسی بنیادوں پر فصلی غذائیت اور پائیدار کاشتکاری کے ذریعے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یارا اور ایف ایف سی کی یہ شراکت داری عالمی مہارت کو مقامی تجربے کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے پاکستان کے کاشتکاروں تک جدید فصلی غذائیت کے مؤثر حل پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس تعاون کے ذریعے کاشتکاروں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، عالمی معیار کی زرعی مہارت اور مؤثر غذائی مصنوعات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے پیداوار، منافع اور وسائل کے مؤثر استعمال میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ اشتراک پاکستان کی زرعی ترقی، قومی غذائی تحفظ اور ایک مضبوط، پائیدار اور ماحول دوست زرعی مستقبل کی بنیاد ثابت ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button