کالمز

مسلمان، ویلنٹائن ڈے اور زلزلے کی حقیقت
از قلم: بنتِ اسحاق


زرا سی زمین ہلی اور لوگ سٹیٹس لگانے لگ گئے۔ بجاۓ رب کی بارگاہ میں حاضری دینے کے سب نے پہلی ترجیح سٹیٹس لگانے کی کی۔ ہم قوم عملی طور پہ بہت پیچھے کہیں رہ گئے ہیں، سب ایک دوسرے کو نصیحتیں، تلقین کرکے سمجھ لیتے ہیں کہ ہم اپنا فرض پورا کرچکے جبکہ فرض کی بنیاد تو یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ہم جانتے بوجتے ہوۓ سمجھتے ہی نہیں کہ ان زلزلوں کے زریعہ وہ ربِ زالجلال کیا اشارہ دینا چاہتا ہے۔ ابھی تو زرا سا جھٹکا دیا ہے، سوچو اس وقت کو کہ جب سب فنا ہوجائیں گے، جب زمین ہلے گی تو سارا بوجھ باہر نکال پھینکے گی ، جب زمین ہلے گی تو پہاڑ ریت کے زرے بن جائیں گے پھر روئی کی شکل اختیار کریں گے، کہ لوگو ! جب زمین ہلے گی تو اس آواز کی وہشت سے سمندر اُبل آئیں گے، آسمان پھٹ جائیں گے ، آسمان کے در کھول دئے جائیں گے اور فوجوں کی فوجیں آئیں گیں ، ہر شے فنا ہوجاۓ گی اور زمین چمڑے کی مانند کِھچ جاۓ گی۔(بخاری شریف)
ہم بذاتِ نوجوان نسل ، بذاتِ قوم اس پستی میں ہیں کہ قیامت کی حقیقت سے انجان بن بیٹھتے ہیں۔۔۔ زلزلے کب، کب آۓ اور کیوں، کیوں آۓ ، ایسی کیا وجوہات بنی کہ اللہ کو زلزلے کی شکل میں عذاب نازل کرنے پڑے ، یہ میرے عزیر احباب مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔
عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے اور وہ اللہ نے دے دیا، اب یہ ہم پہ منحصر کرتا ہے کہ ہم کتنا اثر لیتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے بظاہر یہود و نصاری کی تاریخ ہے۔ لیکن اسکا فروغ مسلم دنیا میں ذیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہماری نوجوان نسل جس بےراہ روی کا شکار ہے ، جس دلدل میں با راضی و خوشی دنھستی جارہی ہے ، جس کنوایں میں گر رہی ہے، جس سمت چل نکلی ہے، اسکا اختتام آگ سے لپٹی جہنم ہے جو گناہگاروں کی گھات لگاۓ بیٹھی ہے۔ ویلنٹائن ڈے کیا ہے۔ کب وجود میں آیا۔ اسکی حقیقت کیا ہے۔ کیوں منایا جاتا ہے؟
ہم یہ سب بغیر جانے اس دن کی ایک تصویر بناۓ رکھتے ہیں اور اسے محبتوں کا دن قرار دیتے ہوۓ اپنی ناجائز محبتوں سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، اور خود کو محبت کے میدان میں امر کرنے لگتے ہیں۔ ایسا ہی ہے نا؟
ویلنٹائن ایک یہودی پادری(جو اپنی زندگی دین کے لیے وقف کرتے ہیں) تھا۔ جس کے نام سے یہ محبتوں کا دن مقرر کیا گیا۔ یہ دراصل یہود و نصاری کی تاریخ کا اہم باب ہے۔ کہ جب رومی بادشاہ نے جنگی لشکر کے لیے افراد بھرتی کرنے چاہے تو بہت کم افراد شامل ہوۓ۔ وجہ معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ کئی لوگ اپنے خاندان کو چھوڑنے اور جنگ لڑنے پہ امادہ نہ ہیں تو بادشاہ نے شادیوں پہ پابندی عائد کردی۔ اسی دوران ویلنٹائن نے اجتماعی شادیوں کے لیے تقریب کا اہتمام کیا اور شادیاں کرائیں۔۔ بادشاہ نے اس خلاف ورزی کے علم پر ویلنٹائن کو قید کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ قیدخانے میں ویلنٹائن کو قیدخانے کے داروغے کی کم عمر بیٹی سے پیار ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے ویلنٹائن نے تمام قوائد بدل کے رکھ دیے ، جس بنا پہ اسنے حلال و حرام، پاک ناپاک اور جائز ناجائز کے اصول و ضوابط بدل کے رکھ دیے۔ یعنی حرام کو حلال، ناپاک کو پاک اور ناجائز کو جائز قرار دے دیا۔ یوں جیلر کی بیٹی کو ورغلانے میں کامیاب رہا۔۔ جب بادشاہ کے علم میں آیا تو بادشاہ نے ویلنٹائن کو پھانسی کی سزا دی۔ قبلِ پھانسی ویلنٹائن نے داروغے کی بیٹی کو خط لکھا، جس کا اختتام اس نے ان لفظوں پہ کیا ؛ "تمہارا ویلنٹائن”
پھر 14 فروری کو ویلنٹائن کی پھانسی کا دن مقرر ہوا اور بمطابق حکم ویلنٹائن کو تختہ دار پہ لٹکا دیا گیا۔۔ تب سے ان حرام محبتوں کا رواج عمل میں آیا،جو تیزی سے جنوب شمال میں پھیلتا گیا اور جس کا اثر نا صرف روم میں مقید رہا بلکہ آہستہ آہستہ دوجے ممالک بھی اسکی لپیٹ میں آۓ۔۔ اور آج سب سے ذیادہ منفی اثرات ہماری نوجوان نسل پہ مرتب ہورہے اور وہ اس دن کو منانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
جیسا کے نبیﷺ کی حدیث مبارکہ ہے: "جس نے یہودیوں کی مشابہت اختیار کی ، وہ انہی میں سے ہے”۔
یہود و نصاری کے بناۓ گئے اطوار پہ چلنا، ان کی پیروی کرنا یہ یہودیوں کی مشانہت نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور چونکہ یہود ونصاری کے اطوار کبھی مسلمانوں کے اطوار نہیں ہوسکتے۔ اور نہ ہم چاہیں گے کہ جب بروزِ قیامت ہمارے نام پکارے جائیں تو ہم یہودونصاری کی صف سے اُٹھاۓ جائیں۔
دعا ہے اللہ ربُ العزت ہمارا خاتمہ حالتِ ایمان میں فرمائیں اور دنیا میں ہمیں ان شروں سے محفوظ فرمائیں۔ آمین

Related Articles

2 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button