نمائندگان کی خبریں

کندھکوٹ میں بی آئی ایس پی دفتر میں کھلی لوٹ مار، ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ثابت

کشمور (سید رشید احمد شاہ)  کندھکوٹ شہر میں قائم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے دفتر میں غریب، بیوہ اور نادار خواتین کے ساتھ کھلے عام ظلم و زیادتی کا سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔

ذرائع اور متاثرہ خواتین کے مطابق حکومت کی جانب سے بالکل مفت فراہم کی جانے والی والٹ سم اور دیگر سہولیات کے عوض خواتین سے 1000 روپے فی کس زبردستی وصول کیے جا رہے ہیں متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ اگر وہ مذکورہ رقم ادا نہ کریں تو نہ انہیں والٹ سم فراہم کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کے مسائل حل کیے جاتے ہیں۔ بعض خواتین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں دفتر کے چکر لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ “رقم دیے بغیر کام نہیں ہوگاغریب اور بے سہارا خواتین، جو پہلے ہی مہنگائی اور غربت کے ہاتھوں پریشان ہیں، اس اضافی مالی بوجھ کو اٹھانے سے قاصر ہیں۔ یہ عمل نہ صرف سرکاری قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ حکومت کے غربت مٹاؤ پروگرام پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ضلعی انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، مگر تاحال کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ضلعی انتظامیہ واقعی اس صورتحال سے لاعلم ہے یا پھر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس سنگین معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملوث عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور غریب خواتین کو لوٹی گئی رقم واپس دلائی جائے۔ بصورت دیگر شہریوں نے احتجاجی تحریک شروع کرنے کی بھی وارننگ دی ہے۔

یہ امر قابلِ غور ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو عوام کا اعتماد سرکاری فلاحی اداروں سے مکمل طور پر اٹھ جائے گا، جس کے نتائج حکومت اور انتظامیہ دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button