اہم خبریں

ظالم شوہر نے باپ کے ساتھ مل کر بیوی کو تیزاب پلا دیا

اسلام آباد ( چوہدری ہارون اشتیاق )تھانہ کرپا کی حدود میں ظالم شوہر نے باپ کے ساتھ مل کر بیوی کو تیزاب پلا دیا۔ملزمان متاثرہ لڑکی سے اشٹام پیپر پر انگوٹھے بھی لگواتے رہے۔کہ قتل کے بعد متاثرہ لڑکی کے بھائیوں کو مقدمے میں پھنسا سکیں۔لڑکی ہسپتال داخل صحت یاب نہ ہو سکی۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے سفاک شوہر کو گرفتار کر لیا۔ملزم کا باب تاحال فرار ہے۔متاثرہ لڑکی کی مریم نواز شریف سے انصاف کی اپیل۔ تفصیلات کے مطابق میں مسمی جبار ولد جہانگیر انجم سکنہ منکیالہ کلر روڈ تحصیل و ضلع راولپنڈی کا رہائشی ہوں۔سائل کی ہمشیرہ سکینہ بی بی کی شادی عرصہ تقریباً3 سال قبل محمد بلال ولد محمد علی سکنہ P/O سہالہ گاگڑی تحصیل و ضلع اسلام آباد سے ہوئی تھی جس میں سے اس کی ایک بیٹی بعمر قریب 1/1/2 ہے شادی کے کچھ عرصہ بعد محمد بلال کا رویہ میری ہمشیرہ کے ساتھ بدل گیا۔جو کہ اکثر بیشتر میری بہن کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔لیکن سائل اپنی ہمشیرہ کا گھر بسانے کے لیے در گزر کرتا ربا عرصہ ڈیڑھ ماہ سے میرے اہل خانہ کا رابطہ میری بہن سے نہ ہوا۔سائل مورخہ 14.03.25 کو اپنی بہن کی خیریت دریافت کرنے کے لیے واقع گاگڑی گیا تو معلوم ہوا کہ میری بہن سکینہ بی بی کی طبعیت خراب ہے جوکہ فوجی فاؤنڈیشن راولپنڈی میں زیر علاج ہے۔سائل ہمراہ اپنے چچا کے فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال پہنچا۔جہاں پر میرا بہنوئی محمد بلال موجود تھا جوکہ ہمیں دیکھتے ہی وہاں سے غائب ہوگیا میں نے ڈاکٹر صاحبان سے اپنی بہن کی بیماری کے بارے میں دریافت کیا تو ہسپتال کے عملہ نے بتلیا کہ آپ کی ہمشیرہ کی طبیعت زیادہ خراب ہے۔جس کو کسی نے زہر دیا ہے ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ اپنی بہن کو کسی دوسرے ہسپتال میں شفٹ کرلیں جہاں اس کا علاج بہتر ہوسکے میں ہمراہ اپنے چچا وارڈ میں اپنی بہن کے پاس پہنچ تو میری دریافت پر میری ہمشیرہ نے مجھے بتایا کہ اس کو اس کے خاوند محمد بلال اور سسر محمد علی نے مورخہ 15.02.25 کو جان سے مارنے کی خاطر زبردستی تیزاب پلایا ہے۔جس سے میری حالت خراب ہونے کی وجہ سے مجھے مختلف ہسپتالوں میں لے جاتے رہے ہیں اور ڈاکٹروں کے سامنے غلط بیانی کرتے رہے جس پر میں اپنی بہن کو لے کر PIMS ہسپتال اسلام آباد پہنچا۔جہاں پر وہ زیر علاج ہے۔ملزمان نے میری بہن کو جان سے مارنے کی خاطر اسے تیزاب بلا کر سخت زیادتی کی ہے۔تھانہ کرپا پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 115/25 بجرم 324 درج کر کے کاروائی شروع کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button