نمائندگان کی خبریں

کندھکوٹ میں سیپکو کی کارکردگی سوالیہ نشان، گاڑیوں کی خستہ حالی اور فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کا انکشاف

کشمور( سید رشید احمد شاہ)  کندھکوٹ میں سکھر الیکٹرک پاور کمپنی سیپکو کی کارکردگی ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں ادارے کے زیرِ استعمال سرکاری وسائل، خصوصاً گاڑیوں کی خستہ حالی اور فنڈز کے مبینہ غیر شفاف استعمال نے کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے ذرائع کے مطابق سیپکو کے مختلف آپریشنل یونٹس میں استعمال ہونے والی سرکاری گاڑیاں انتہائی خراب حالت میں ہیں۔ کئی گاڑیاں نہ صرف تکنیکی خرابیوں کا شکار ہیں بلکہ ان کی مرمت اور دیکھ بھال پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں فیلڈ آپریشنز، خصوصاً بقایاجات کی وصولی مہم، بری طرح متاثر ہو رہی ہے مزید برآں، ادارے کے لیے مختص پیٹرول اور ڈیزل کے فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض افسران کی جانب سے سرکاری وسائل کے مبینہ طور پر ذاتی استعمال کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث نہ صرف ادارے کو مالی نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کو شدید مشکلات کا سامنا بھی ہے فیلڈ اسٹاف، جن میں لائن مین اور لائن سپرنٹنڈنٹ شامل ہیں، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں اکثر اپنی جیب سے پیٹرول ڈال کر موٹرسائیکلوں پر ڈیوٹی سرانجام دینا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محدود وسائل اور سہولیات کے باوجود وہ بجلی چوری کے خلاف کارروائیوں اور بقایاجات کی وصولی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں مؤثر کارکردگی دکھانا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر ادارے کے وسائل کا شفاف اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے تو کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے گاڑیوں کی مرمت، فنڈز کے درست استعمال اور فیلڈ اسٹاف کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔دوسری جانب شہری حلقوں نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سیپکو کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ صارفین کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور ادارے پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button