نمائندگان کی خبریں

سرور شہید کالج پل خونی حادثے کا پیش خیمہ؟ این ایچ اے اور موٹروے پولیس کی مجرمانہ خاموشی پر سوالات

سرور شہید کالج پل یا موت کا شکنجہ؟ این ایچ اے اور موٹروے پولیس کی خاموشی کسی بڑے سانحے کا انتظار بن گئی
گوجر خان جی ٹی روڈ کے خستہ حال پل پر گہرے شگاف انتظامیہ کے منہ پر طمانچہ، کیا انسانی جانوں کا ضیاع ہی افسران کی آنکھیں کھولے گا؟
ریلوے لائن کے اوپر معلق موت پٹرولنگ پولیس کی روزانہ آمد و رفت کے باوجود سنگین شگاف نظر انداز، کارکردگی پر سوالیہ نشان
گوجر خان(قمرشہزاد)جی ٹی روڈ گوجرخان سرور شہید کالج کے مقام پر واقع پل کا جہلم سائیڈ والا حصہ اس وقت کسی خوفناک حادثے کے لیے ڈیتھ ٹریپ بن چکا ہے۔ پل کے درمیانی ستونوں کے عین اوپر پڑنے والے گہرے اور چوڑے شگاف دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں، جو نہ صرف سڑک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں بلکہ تیز رفتار ٹریفک کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ یہ شگاف گٹر کے کھلے ڈھکنوں سے بھی کہیں زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں جہاں سے جھانکتا ہوا سریہ کسی بھی گاڑی کا ٹائر پھاڑ کر اسے نیچے ریلوے لائن یا گہری کھائی میں گرانے کے لیے کافی ہے۔ حیرت انگیز اور لمحہ فکریہ بات یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹروے پٹرولنگ پولیس، جن کی گاڑیاں روزانہ درجنوں بار اس پل سے گزرتی ہیں، اس سنگین خطرے کو دیکھ کر بھی انجان بنی ہوئی ہیں۔ کیا ان افسران کی نظریں ان بڑے شگافوں پر نہیں پڑتیں یا پھر کسی بڑے سانحے کے بعد فوٹو سیشن کے لیے اس مقام کو چھوڑ دیا گیا ہے؟ ان شگافوں میں تیز رفتار گاڑیوں کے ٹائر دھنسنے یا سریہ لگنے سے پبلک ٹرانسپورٹ کی الٹ جانے کا خدشہ موجود ہے، جس کی صورت میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری براہ راست ان غافل افسران پر عائد ہوگی۔ علاقہ مکینوں اور مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے سوال کیا ہے کہ کیا انتظامیہ کسی خونی حادثے کے بعد ہی حرکت میں آئے گی؟ اگر فوری طور پر ان شگافوں کی مرمت نہ کی گئی اور پل کی مضبوطی کا ازسرنو جائزہ نہ لیا گیا، تو یہ غفلت ایک ایسے سانحے کو جنم دے سکتی ہے جس کا تدارک ناممکن ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button